انقرہ میں اسرائیلی صدر کے استقبال پر حماس کا مذمتی بیان

اسلامی تحریک مزاحمت نے مذمتی بیان میں ترکی یا ایردوآن کا ذکر نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کے دورہ انقرہ کے موقع پر ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے۔

اس بیان کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں تنظیم نے محتاط انداز میں ترکی اور اس کے صدر رجب طیب ایردوآن کا نام لیے بغیر اسرائیلی صدر کے دورے کی مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے ہم اسرائیلی صدر کے خطے کے ممالک کے دورے کی مذمت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کو اسرائیلی عہدیداروں اور اعلیٰ قیادت کے متعدد اسلامی اور عرب ملکوں کے حالیہ دوروں پر انتہائی تشویش ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کا دورہ علاقے کے ملکوں کا آخری دورہ بتایا جاتا ہے۔

ترکی اور اسرائیل ماضی میں قریبی اتحادی رہے ہیں تاہم ترک صدر کی جانب سے فلسطین سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کے بعد یہ تعلقات خرابی کا شکار ہوئے تھے۔ ترکی کی جانب سے غزہ کی حکمراں جماعت حماس کی حمایت پر اسرائیل نے بھی ناراضی کا اظہار کیا تھا جو تنظیم کو دہشت گرد گروہ سمجھتا ہے۔

غزہ کے مکینوں کی مدد کے لیے 2010 میں بھیجے جانے والے فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے میں نو ترک شہریوں کے مارے جانے کے بعد حالات کشیدہ ہوئے تو دونوں ملکوں نے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ بعد میں 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو ترکی نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

اسرائیل اور ترکی کا حالیہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انقرہ اپنی بین الاقوامی تنہائی کو ختم کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے متعدد ملکوں سے تعلقات بہتر کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں