ایران جوہری معاہدہ

ایران کے سینئر مذاکرات کار کی ویانا واپسی، امریکی جواب کا انتظار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق ایران کے سینئر مذاکرات کار بدھ کے روز ویانا واپس آ گئے۔ اس قبل وہ اچانک تہران چلے گئے تھے۔

ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ بات چیت مکمل ہونے کے لیے امریکی فیصلے اور جواب کا انتظار ہے۔ ذریعے کے مطابق ایران اور عالمی قوتوں کے بیچ مذاکرات میں "قابل ذکر پیش رفت" دیکھی گئی ہے۔

اس سے قبل امریکا کی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور وکٹوریا نولینڈ نے منگل کے روز کانگریس کے اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ ویانا بات چیت تصفیہ طے پانے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایرانی جوہری معاہدے کے مخالفین کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا جس میں زور دیا گیا ہے کہ یوکرین میں جنگ کے سبب جوہری بات چیت کو معلق کر دیا جائے۔

ادھر فرانس نے گذشتہ روز یہ باور کرایا کہ جوہری سمجھوتا بہت قریب ہے۔ البتہ ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی صورت حال سے معاملے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ یہ اشارہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی جانب تھا۔

یاد رہے کہ روس نے چند روز قبل امریکا سے اس بات کی تحریری ضمانت کا مطالبہ کر دیا کہ واشنگٹن اور مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد حالیہ پابندیاں ماسکو اور تہران کے بیچ تعاون پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔

ویانا مذاکرات میں شریک کئی مغربی سفارت کار یہ باور کرا چکے ہیں کہ جوہری بات چیت اپنے حتمی اور حساس مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ مزید یہ کہ بعض مسائل کے معلق رہنے کے باوجود اتفاق رائے کا عندیہ ملنا شروع ہو گیا ہے۔

ان مذاکرات کا آغاز اپریل 2021ء میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہوا تھا۔ گذشتہ برس جون میں ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کے منتخب ہونے پر بات چیت رک گئی تھی۔ بعد ازاں یہ مذاکرات نومبر 2021ء میں پھر سے شروع ہوئے اور ابھی تک جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں