سعودی عرب:غزوہ تبوک کے مقام پرعمارتیں جو کھنڈرات بن گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے فوٹوگرافر اور قومی ورثے کے محقق عبد الالہ الفارس نے تبوک کے تاریخی مرکز میں واقع تاریخی محلے کے اہم ترین کھنڈرات کو دستاویزی شکل دی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ ان کھنڈرات کو ہلکی پینٹنگز میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ تبوک کے تاریخی مرکز میں خوبصورت ماضی کو یادگار بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے تاریخی تبوک قلعے اور اس کے قرب و جوار کی جگہ کو دستاویزی شکل دی ہے جو قدیم شامی حج روڈ کے قلعوں میں سے ایک ہے۔ تاریخی عین السکر کے قریب قائم عمارتوں کے کھنڈرات ماضی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر "غزوہ تبوک" میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے نویں سال جنگ لڑی تھی جسے جنگ تبوک کا نام دیا جاتا ہے۔

ہیریٹیج کالونی کے قریب پرنس فہد بن سلطان ایونیو بھی ہے۔ ایونیو تبوک شہر کا ایک ثقافتی نشان اور ایک اہم تجارتی مرکز ہے جو مصروف تجارتی مرکز ہے اور بہت سے مشہور بازاروں پر مشتمل ہے۔

تبوک کے وسط میں مٹی کی اینٹوں سے بنی عمارتیں بھی تصویروں میں نمودار ہوئی ہیں، جو فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔

الفارس نے کہا کہ مٹی کی عمارتیں ایک مخصوص تعمیراتی خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہیں۔یہ عمارتیں مٹی سے تعمیر کی گئی ہیں مگران کی پائیداری بھی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نےکہا کہ پرانے محلے کوچھوڑ دیا گیا اور نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجے میں یہ کھنڈرات میں بدل گئیں۔ یہ ایک افسوسناک منظر ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ عمارتیں ٹوٹنا شروع ہوگئیں۔ ہماری پیاری مملکت نے کچھ علاقوں میں پرانے محلوں کی بحالی اور ترقی کی کوشش کی جن میں تبوک کی یہ تاریخی کالونی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں