ایران

امریکی عورتوں کو حجاب اور وائٹ ہاؤس کو امام بارگاہ میں بدلنے کی انوکھی ایرانی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مغربی ملکوں کے ساتھ جاری مذاکرات میں من مانی شرائط پیش کرتا رہا ہے مگر حال ہی میں ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کے ایک سینیر رکن اور سرکردہ شیعہ مناظر نے حیران کر دینے والی شرائط پیش کیں۔ یقین نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ایرانی مذاکرات جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات میں ایسی شرائط پیش کرسکتا ہے۔

سخت گیر ایرانی مذاکرات کار حسن عباسی نے کہا کہ ایرانی قوم کو اپنے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں معاہدے کے لیے مطالبات کی طویل فہرست جاری کرنی چاہیے۔

عباسی نے اس حوالے سے کہا کہ آج ایرانی عوام کو اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست مذاکرات کی میز پر رکھنی چاہیے اور اس فہرست میں سب سے اوپر ہمیں وائٹ ہاؤس کو حسینیہ [امام بارگاہ] میں تبدیل کرنا چاہیے اور دوسرا یہ کہ امریکی اور مغربی خواتین کے حجاب کی شرط شامل کی جانی چاہیے۔

انہوں نے دیگر شرائط پیش کیں جن میں "اسلام قبول کرنا"، "ہم جنس پرستی کے قانون کو ختم کرنا" اور "بدعنوانی کا خاتمہ" شامل ہیں۔

عباسی شاہرود شہر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک رکن کے قتل کی برسی کے موقع پر منعقدہ ایک سمپوزیم سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت اپنے قرضوں کی وجہ سے گرجائے گی جن کا حجم 30 ہزار ارب ڈالر ہے۔ جاپان اور یورپ بھی قرضوں کی وجہ سے منہدم ہو جائیں گے۔ لہذا ایرانی مذاکراتی ٹیم کے رکن نے مشورہ دیا کہ وہ ان سے ایران پر عاید پابندیوں کی منسوخی کی درخواست نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت ماضی سے زیادہ تیل فروخت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکا طویل المدتی جنگ میں نہیں پڑ سکتے۔اس لیے ہم نے اپنے سروں سے جنگ کے خوف کے سائے ختم کیے ہیں۔ مذاکرات کے نتیجے میں نہیں بلکہ اپنے عوام کی مزاحمت کی وجہ سے۔

ایرانی عہدیدار نے یوکرین کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرق اور مغرب کی جنگ میں ایران ہی فاتح ہوگا لہذا اب وقت آگیا ہے کہ مغرب کو رعایت دینے پر مجبور کیا جائے۔

حسن عباسی ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈروں میں سے ایک ہیں اور وہ کچھ عرصے سے پاسداران انقلاب کے جنگی طریقہ کار تیار کرنے کے ذمہ دار تھے۔ وہ اس وقت 2000 میں قائم ہونے والے یقین ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ اس ادارے نے اعلان کیا کہ اس کی سرگرمیوں کا رخ "نظریاتی علم کو مقامی بنانے" کی طرف ہے۔

اگرچہ عباسی کے پاس ان امور سے متعلق کوئی تعلیم یا نہیں ہے جن میں وہ سرگرم ہیں لیکن وہ سیاست، مذہب، معاشیات، کھیل، ثقافت اور تاریخ کے شعبوں میں لیکچر دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں