سعودی عرب:مجرم انجام کو پہنچ گئے، الدالوہ کیس بند، تفصیلات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کل ہفتے کو مشرقی سعودی عرب کے علاقے الاحساء میں الدلوہ بم دھماکے کی فائل بند کر دی گئی جس میں 8 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے تھے۔ کیس کو بند کرنے سے قبل سعودی وزارت داخلہ نے گمراہ نظریات اپنانے والے 81 افراد کو پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا۔ جن مجرموں کے سر قلم کیے گئے ان میں الدالوہ حملے کےملزمان بھی شامل تھے۔ ان کی شناخت عبداللہ بن سعيد بن عائض القحطاني ، طارق بن مساعد بن زيد المطيري ، خالد بن زويد بن قحطان العنزي ،مروان بن إبراهيم بن عبداللطيف الظفر ،رياض بن أحمد بن علي حربی ،بسام بن ناصر بن إبراهيم الحميد ،فايز بن عياد الرشيد اورأحمد بن مساعد بن زيد المطيری کےناموں سے کی گئی ہے۔ تمام ملزمان سعودی عرب کے شہری تھے۔ ان پر الدالوہ بم دھماکے کےعلاوہ کئی دوسرے جرائم میں ملوث ہونے کے بھی کیسز تھے۔ الاحسا میں الدالوہ کےمقام پر بم دھماکے میں بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ حملوں میں دو سیکورٹی اہلکار بھی مارے گئے جب کہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا۔

الاحساء جو اپنے معاشرے کے طبقات میں رواداری اور بھائی چارے کے لیے مشہور ہے 2014 کے آخر میں ایک دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنا۔دہشت گردوں کا مقصد فرقہ وارانہ فساد کو ہوا دینا تھا، کیونکہ چار دہشت گردوں نے حسینیہ الدالوہ پر حملہ کیا۔ اس وقت عاشورہ کی تقریبات اپنے عروج پر تھیں۔ دہشت گرد تنظیم "داعش" نے خونی کارروائیوں کے دھماکوں کا الدلوا سے آغاز کیا جس میں عبادت گاہوں اور پرامن شہریوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔

سعودی وزارت داخلہ نے اس واقعے کی تحقیقات میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ الاحساء میں الدلوا امام بارگاہ پر حملے کے مرتکب افراد کی شناخت فوری طور پر ظاہر کر دی گئی اور واقعے کے صرف 10 گھنٹے کے اندر 6 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاریاں تین شہروں شقرا، الخبر اور الاحساء سے کی گئیں۔ گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی پر ان کے رابطے میں موجود مزید 15 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ تمام عناصر ملک میں دہشت گردی اور واریت کی آگ بھڑکانا چاہتے تھے۔

وزارت داخلہ کے سیکیورٹی ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے اس وقت کہا تھا کہ اس جرم کے مرتکب چار افراد تھے جن میں سے ایک دہشت گرد سیل کا سربراہ ہے اور اس کا تعلق داعش سے ہے۔ مجرم نے ایک شہری کو قتل کرکے اس کی کار چرائی اور اسے حملے کے لیے استعمال کیا۔

ملزمان "لون وولف" آپریشنز کے نام سے اس سیل میں ملوث تھے جس کا مقصد فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا، سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنانا، بیرون ملک دہشت گرد تنظیم داعش کے احکامات پر عمل درآمد کرنا تھا۔ مجرمانہ سیل ہتھیار تیار کرتا، دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں استعمال کے لیے کیمیائی کھاد اور تکنیکی آلات کا استعمال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں