’بارش کے پانی کے حوضوں نے کاشت کاری میں خود کفیل بنا دیا‘

بارش کے پانی کو حوضوں میں جمع کرنے والے سعودی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک بزرگ شہری نے پتھریلی زمین پر بارش کے پانی کو کھیتوں کے لیے حوض کی شکل میں جمع کرکے خشک سالی مقابلہ کرنے کا کامیاب طریقہ اختیار کیا۔

وہ پانی کے کنوؤں کو اپنے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو خشک سالی کے باعث اس کے کھیت ویران ہوجاتے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سعودی کاشت کار محمد عبدالہادی الغامدی نے کہا کہ بارش کے پانی کو جمع کرنے کا ان کے پاس کوئی انتظام نہیں تھا۔ بارش ہوتی اور پانی بہہ جاتا مگر اس سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ میں نے بارش کے پانی کو ڈھلوان سے بہہ جانے کو روکنے کے لیے جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے حوض بنائے اور پانی جمع کرنے کے لیے سادہ انجینیرنگ کا طریقہ اختیار کیا۔

پانی کے 11 ٹینک

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے 3 دہائیوں قبل پہلے پتھریلے ذخائر تعمیر کرنے میں اکیلے کام کیا تھا۔ آج میرے پاس 11 ذخائر ہیں جن کے ذریعے میں اپنے گھر کے لیے پانی کی ضرورت پوری کرتا اور اپنی فصلوں کو سیراب کرتا ہوں۔ اس کام نے مجھے کاشت کاری خود کفیل بنایا۔ جو فصلیں میرے باپ دادا کاشت کرتے تھے میں نے ان میں اضافہ کیا

سعودی شہری نے کہا کہ ہر حوض میں پانی کی مقدار 700 ٹن سے زیادہ ہے۔ اب وہ ان آسان طریقے، اپنا تجربہ اور مہارت دوسرے کسانوں کو منتقل کر رہا ہے تاکہ انہیں پہاڑی علاقوں میں وسیع پیمانے پر پھیلایا جا سکے۔ اس کے تجربے نے حالیہ برسوں میں بہت سے کسانوں کی توجہ اور درخواستیں حاصل کی ہیں۔

الغامدی کے فارم کے قریب "غاروں" کی بڑی تعداد موجود ہے۔ان سے فائدہ اٹھانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ان کے فارم میں 7 غاریں شامل ہیں، جن میں سے 5 سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں کیونکہ وہ اپنی منفرد ارضیاتی ساخت کی وجہ سے ممتاز ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان غاروں میں گرینائٹ چٹانوں کے اندر وسیع گڑھے ہیں جنہیں قدیم انسانوں نے اپنے مسکن بنا رکھے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں