سعودی ولی عہد کے انٹرویو پر مملکت میں شیعہ علماء کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں شیعہ عالم دین شیخ حسین علی المصطفی نے ایک ٹویٹ کی ہے۔ ٹویٹ میں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کو مخاطب کیا ہے اور ان کی تصویر بھی منسلک کی ہے۔ شیخ حسین نے لکھا ہے کہ "وطن کے ساتھ آپ کی پاسداری کا کمال مرتبہ یہ ہے کہ آپ اس سرزمین کے ساتھ مخلص اور وفادار رہیں جہاں آپ نے زندگی بسر کی ہے اور جس وطن نے آپ کو آغوش فراہم کی۔ یہ ارضِ وطن ہر آن آپ کے ساتھ وابستہ ہے لہذا اس کے ساتھ ایک خود سے قائم عنوان کے طور پر معاملہ کیا جائے۔ یہ ہی سعودی ویژن 2030 ہے"۔

شیخ حسین کی یہ ٹویٹ رواں ماہ 3 مارچ کو "دی انٹلانٹک" جریدے کو دیے گئے سعودی ولی عہد کا انٹرویو شائع ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔

شیخ حسین علی المصطفی نے 4 مارچ کو لکھا کہ " قانونی ہم وطنی ریاست کے ساتھ انسان کے تعلق کی بنیاد ہے۔ دین فرد کے لیے اور قانون ریاست کے لیے ہوتا ہے۔ اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ... یہ موقف 'ہم وطنی کی روح" کو مضبوط بناتا ہے اور اسے ضمنی وفاداریوں میں سب پہلے وضع کرتا ہے۔

شیخ حسین کے نزدیک دین کو سیاسی مقاصد کے واسطے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ مزید یہ کہ عالم دین کا کردار ایک دانش ور، فلسفی اور اس ہم وطن شہری کے شانہ بشانہ ہونا چاہیے جو اصلاح اور روشنی کی راہ دیکھ رہا ہے۔

ادھر الاحساء ضلع میں "امام حسین مسجد" کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے محمد رضا السلمان لوگوں پر زور دیا کہ وہ ویژن 2030 کی تفصیلات کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے دی اٹلانٹک جریدے کے ساتھ شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ انٹرویو کو نہایت شان دار قرار دیا۔

محمد رضا نے سعودی عرب میں حال ہی میں منظور کیے جانے والے "ذاتی احوال کے قانون" کو اپنی نوعیت کی بہترین پیش رفت شمار کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے ہم بند دنیا سے ایک کھلی دنیا کی طرف منتقل ہو رہے ہیں اور اس کا سہرا ولی عہد کے سر ہے۔

ایک اور شیعہ عالم شیخ حسن الصفار نے 11 مارچ کو قطیف ضلع کی "الرسالہ مسجد" میں جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے دی اٹلانٹک کے ساتھ شہزادہ محمد کے انٹرویو کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے بیان کیے گئے مواقف نہ صرف ملک و قوم بلکہ پوری امت کے لیے باعث افتخار ہیں۔ عربی اخبار "الشرق الاوسط" میں 15 مارچ کو لکھے گئے ایک مضمون میں الصفار نے مملکت میں سنی اور شیعہ خطیبوں ، مبلغوں اور دانشوروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلکی بحث و جدل سے نکل کر وحدت اور بہبود کی خاطر بات کریں جس سے قوم کے فرزندوں کی اخلاقی تربیت ہو سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے سعودی معاشرے میں شیعہ حلقوں اور شیعہ علماء کو ماضی کی نسبت کہیں زیادہ آزادی اور خود مختاری حاصل ہے۔ مملکت کی دانش مند قیادت شیعہ آبادی کو پوری طرح قومی دھارے میں لانے کے اقدامات کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں