دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی میں تدریس کے لائسنس کا حامل سعودی نوجوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ میں برائٹن شہر کی بلدیہ نے اپنے سیاحتی ترقیاتی منصوبے کی سربراہی کے لیے سعودی طالب عقیل کدسہ کو منتخب کیا ہے۔ عقیل اسکالر شپ پر برطانیہ میں مقیم ہیں۔ یہ فیصلہ سسکس یونیورسٹی میں عقیل کی تحقیق کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ عقیل پہلے سعودی ہیں جو دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی کی تدریسی کمیٹی کے رکن بننے کی اجازت رکھتے ہیں۔

عقیل کدسہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ "میری تحقیق کا موضوع خرید و فروخت کے شعبے میں تجارتی مراکز اور سیاحتی مقامات کے مطالعے اور تجزیے سے متعلق ہے۔ اس کا مقصد صارف کے لیے مربوط تجربے کے معیارات کا تعین کرنا ہے۔ اس طرح ان مقامات کو اول درجے کا سیاحتی مقام بنایا جا سکے گا۔ دنیا میں بہت کم شہروں کے حوالے سے اس نوعیت کا تحیققی مطالعہ کیا گیا ہے۔

عقیل کے مطابق انہوں نے مذکورہ شہروں کے خرید و فروخت کے شعبے میں سیاحتی مقام کا درجہ پانے کے پیچھے کار فرما عوامل تک پہنچنے کی کوشش کی تا کہ ان تجربات اور خیالات کا سعودی عرب میں بھی تجربہ کیا جا سکے۔

عقیل کے مطابق برائٹن شہر کی بلدیہ نے سعودی طالب علم کے ڈاکٹریٹ کے مقالے کی نگراں ٹیم سے رابطہ کیا اور عقیل کی تحقیق میں اپنی دل چسپی کے بارے میں آگاہ کیا۔ بعد ازاں بلدیہ نے عقیل سے ملاقات کر کے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ سیاحتی ترقیاتی منصوبے کے ضمن میں برائٹن شہر کے علاقے "روڈیو ڈرائیو" کو سعودی طالب علم کے تصرف میں دینے کی خواہش مند ہے۔ یہ ایک بڑا چیلنج تھا کیوں کہ برطانوی دارالحکومت لندن اس جگہ سے بہت قریب واقع ہے جو ایک بہت بڑا تجارتی شہر ہے۔ اگرچہ ایک علاقے کو ترقی دے کر لندن کا پوری طرح مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تاہم اس کے ذریعے علاقے کو سیاحوں کے لیے زیادہ پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔

مستقبل کے حوالے سے عقیل نے بتایا کہ وہ شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں تدریسی عملے میں شامل ہیں۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد وہ سعودی عرب واپس لوٹ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ سیاحت کے میدان میں سعودی عرب کے تابناک مستقبل کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں۔ سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب کی عقیل کدسہ سے ملاقات ہو چکی ہے۔ انہوں نے عقیل کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں مملکت کے لیے کام کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

برطانوی ہائر ایجوکیشن کے اجازت نامے کے حوالے سے عقیل نے بتایا کہ یہ لائسنس عالمی درجہ بندی میں شامل جامعات کے ہاں اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ اس کا حامل شخص اعلی تعلیم کی تدریس کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں