عراقی کردستان: ایران نے اربیل کو سمارٹ جنگی میزائلوں سے نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے کردستان ریجن کے وزیر داخلہ ریبر احمد نے کہا ہے کہ اربیل گورنری پر بمباری کرنے والے ایران نے اسمارٹ میزائل استعمال کیے جو جنگوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

عراقی میڈیا کے ذرائع کے مطابق انہوں نے کل جمعرات کو عراقی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اربیل پر حملہ کرنے کے لیے جو میزائل استعمال کیے گئے وہ جنگی،اسمارٹ اور سرحد پار کے ہتھیار تھے جو صرف جنگ کے معاملات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہدف بنائے گئے مقامات عام شہری ہیں، خاص طور پر عراق میں مشہور عراقی کرد سرمایہ کار کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔

ریبر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کردستان کا علاقہ کھلا اور سب کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ کسی بھی کمیٹی کے لیے تیار ہے کہ وہ آکر بمباری کے مقامات کی چھان بین کرے اور حقائق دنیا کے سامنے لائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اربیل پر بمباری عراقی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اچھے پڑوسی ہونے کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

پاسداران انقلاب نے ذمہ داری قبول کی

اتوار کو ایرانی پاسداران انقلاب نے سرکاری طور پر اربیل حملے میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ ایک سرکاری بیان میں پاسداران نے کہا کہ اس نے ہفتہ، اتوار کی رات اپنی افواج سے تعلق رکھنے والے طاقتور اور درست میزائلوں کے ذریعے اسے نشانہ بنایا جسے انہوں نے "اسرائیلی سازش کا تزویراتی مرکز" قرار دیا۔

تاہم کردستان کی علاقائی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس حملے میں ایک شہری مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی قونصل خانے کے قریب اسرائیلی اڈے پر حملہ کرنے کے جواز کا مقصد اس گھناؤنے جرم کے محرکات کو چھپانا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے مرتکب افراد کے الزامات سچائی سے بہت دور تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں