ترکی میں گذشتہ صدی کے یہودیوں کے متعلق ڈرامہ سیریل کے پیچھے سیاسی ہدف ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے انقرہ کا دورہ کیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دورے سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان حالیہ برسوں میں جاری کشیدگی ختم ہو گئی ہے۔ تاہم ترکی کی جانب سے تل ابیب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششیں اس دورے سے قبل سامنے آ گئی تھیں اور اس نے اس مقصد کے لیے ایک ٹی وی ڈرامے کو استعمال کیا۔

ترکی میں ایک بڑی ڈرامہ سیریل تیار کی گئی جس کی کہانی 1950ء کی دہائی میں ترکی میں موجود یہودی حلقوں کے گرد گھومتی ہے۔ ڈرامے کو Netflixکے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی نشر کیا گیا۔

اسرائیلی صدر نے اپنے دورے میں استنبول شہر میں اُس علاقے کا بھی دورہ کیا جہاں اس ڈرامہ سیریل "The club" کی عکس بندی کی گئی۔

باخبر ترک ذرائع کے مطابق اس ڈرامے کو حکومتی آشیرباد حاصل رہا۔ اس امر نے ڈرامے کی تشہیر آسان بنا دی اور اندرون و بیرون ملک ناظرین کی ایک بڑی تعداد اس سے لطف اندوز ہوئی۔

اس سلسلے میں ترکی میں یہودی کمیونٹی کے حالات کے ترجمان اخبار "شالوم" کے چیف ایڈیٹر ایفو مولیناس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کی۔ ان کے مطابقThe club ڈرامے نے اُس الم ناک صورت حال کے حوالے سے نئی آگاہی پیدا کی جس کا سامنا ترکی میں غیر مسلم حلقوں کو کرنا پڑا۔ ایفو نے کہا کہ "یہ اس نوعیت کا دوسرا ڈرامہ ہے۔ تقریبا 25 برس قبل بھی ایک ٹی وی پروڈکشن میں ستمبر 1955ء کے واقعات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ یہ واقعات بھی استنبول میں رونما ہوئے"۔

حالیہ ڈرامے میں اُن حملوں کو موضوع بنایا گیا ہے جنہوں نے گذشتہ صدی میں بہت سے یہودیوں، یونانیوں اور آرمینیائی باشندوں کو ترکی سے کوچ کر جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ پہلی پروڈکشن ہے جس میں یہودیوں کی زبان میں مکالمے شامل ہیں۔

اس وقت ترکی میں یہودیوں کی تعداد کا اندازہ 15 ہزار کے قریب ہے۔ گذشتہ صدی کے آغاز پر ان کی تعداد کا اندازہ دو لاکھ لگایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں