سعودی عرب : عسیر میں موٹر سائیکلوں پر سیاحتی گشت کا رجحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے صوبے عسیر میں مقامی افراد کی ایک ٹیم نے سیاحت کا روایتی انداز تبدیل کر دیا۔ ان افراد نے تقریبا 9 برس قبل "موٹر سائیکل" پر سوار ہو کر سیاحت کا شوق پورا کرنے کی ٹھانی۔

ٹیم کے قائد ماجد البکری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ہمارے اس طریقے کا مقصد پیشگی تیار کیے گئے پروگرام کے مطابق موٹر سائیکلوں کے ذریعے مختلف نوعیت کے سیاحتی دورے کرنا ہے .. پروگرام میں تاریخی ورثے کے حامل مقامات شامل ہیں جو عسیر صوبے کا حسن ظاہر کرتے ہیں"۔

البکری کے مطابق پیشہ ورانہ افراد پر مشتمل ٹیم "بائیکرز" اس وقت سیاحتی کمپنیوں کو یہ کشش دلانے پر کام کر رہی ہے کہ وہ عسیر صوبے کا دورہ کرنے والے سیاحوں کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیں۔

البکری کے مطابق ان کی ٹیم صوبے کا دورہ کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے متعدد سیاحتی دوروں کا انتظام کر رہی ہے۔ اس دوران میں موٹر سائیکلوں کا استعمال کرتے ہوئے صوبے کے اہم تاریخی مقامات سے متعارف کرایا جاتا ہے۔

مذکورہ ٹیم نے چین کے اُس عالمی سیاح کا استقبال بھی کیا تھا جو 107 ممالک سے گزر کر 4.8 لاکھ کلو میٹر کا سفر طے کر کے آخر کار سعودی عرب کے شہر ابہا پہنچا۔ اس سفر میں چینی سیاح نے 13 موٹر سائیکلیں تبدیل کیں۔ سعودی عرب میں اسلام لانے کے بعد اس نے اپنا نام "عبد الله" رکھا۔

عسیر میں موٹر سائیکلوں پر سیاحت کرنے والے اس پیشہ ورانہ گروپ "بائیکرز" کو 2012ء میں بنایا گیا تھا۔ گروپ کے ارکان کی تعداد 70 تک پہنچ چکی ہے۔ اس گروپ نے دنیا کے مختلف علاقوں بالخصوص فرانس اور چین سے کئی سیاحوں کو متوجہ کیا۔

گروپ کے ذرائع کے مطابق اس ٹیم کو منظم کرنے کا مقصد ایک نصب العین کے تحت موٹر سائیکل چلانے والوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ ایسا مقصد جو تمام سماجی ، سیاحتی اور کھیلوں کی سطح پر سعودی عرب کے کام آئے۔

واضح رہے کہ بائیکرز گروپ نے 2019ء میں 13000 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے "موٹر سائیکل کے ذریعے طویل ترین مسافت" طے کرنے کا پہلا انعام حاصل کیا تھا۔ یہ چیمپین شپ جنوبی افریقا میں منعقد کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں