سعودی عرب میں نالے میں ڈوب کرجاں بحق بچوں کے گھروں میں صف ماتم

’بچے گھر سے کھیلنے نکلے مگر ان کی لاشیں واپس آئیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے علاقے حفرالباطن میں کھیلتے ہوئے قریبی نالے میں ڈوب کر جاں بحق بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔ تینوں بچوں کو آج سپرد خاک کیا جائے گا۔ حادثے میں جاں بحق بچوں کے والدین اور قریبی رشتہ دار شدید صدمے میں ہیں۔

سعودی عرب کے شہری دفاع کی طرف سے بچوں کےنالے میں ڈوبنے کے بعد ان کی تلاش کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پرریسکیو ٹیموں نے شمالی حفرالباطن میں ایک نالے میں بچوں کی تلاش شروع کی۔ موسیٰ الاشعری کالونی کے قریب سے گذرنے والے اس نالے میں ڈوبنے والے تینوں بچوں 12 سالہ سلطان راغب الرحیلیہ، 10 سالہ غانم محمد البذالی اور 7 سالہ عبدالرحمان محمد البذالی کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سلطان راغب الرحیلی کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا پڑوسیوں کے بچوں کے ہمراہ کھیلنے گیا مگر وہ نالے کے گہرے پانی میں اتر گئے۔ جہاں بچے پانی میں اترے وہاں پر پانی کی گہرائی تین میٹر تھی اور تینوں بچے ڈوب گئے۔

الرحیلی نے انتہائی صدمے کے انداز میں کہا کہ جب بچے حادثے کا شکار ہوئے تو اس وقت ان کی مدد کو کوئی نہیں پہنچ سکا۔ دو گھنٹے کی تلاش کے بعد ہمیں بچوں کے ڈوبنے کا پتا چلا۔ ہم اپنے بچوں کی اس المناک موت پرصدمے میں ہیں مگر اللہ سے صبر کی دعا اور بچوں کی آخروی کامیابی کی دعا کرتے ہیں۔

غانم اورعبدالرحمان البذالی کے والد محمد طوقان الجمیلی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بچوں کے ساتھ آخری کھانا’کبسہ‘ کھایا۔ اس کے بعد بچے کھیل کود کےلیے باہر نکل گئے۔ دو گھنٹے تک غائب رہنےکے بعد ہم سب پربچوں کی موت کی خبر بجلی بن کر گری۔ ان کے دونوں بچے ایک تیسرے بچے کے ہمراہ قریبی ایک نالے میں ڈوب گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کی مشیت پر راضی ہیں۔

انہوں نے حفرالباطن میں شہری دفاع کے ڈائریکٹر اور ریسکیو ٹیموں کے بے حد شکر گذار ہیں جنہوں نے گہرے پانی میں موجود ہمارے بچوں کی میتیں تلاش کرکے ہم تک پہنچائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں