یمن اور حوثی

سعودی عرب پرحوثی حملوں کی مذمت، ملک کے دفاع کے لیے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل پیر کو امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے مملکت کی حمایت جاری رکھے گا۔

قبل ازیں اقوام متحدہ نے سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اتوار کی صبح حوثی گروپ کی طرف سے ایک بیلسٹک میزائل اور اقتصادی اور شہری سہولیات کو ڈرونز سے نشانہ بنا کرحملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ حملے جنوبی سعودی عرب کے علاقوں میں شہری تنصیبات پر کیے گئے۔

عرب لیگ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنرل سیکرٹریٹ کے ایک سرکاری ذریعے نے کہا کہ حوثی گروپ کا مملکت میں اہم اہداف کے خلاف ان دشمنانہ کارروائیوں کا تسلسل ایک بار پھر اس کی امن کوششوں کو مسترد کرنے کی عکاسی کرتا ہے اور یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں 2216 اور 2624 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سکریٹری جنرل کے ذمہ دار ذریعہ نے بین الاقوامی برادری کی طرف سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کے بغیر سرحد پار سے حوثی دشمنیوں کے جاری رہنے کے نتائج کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بیان میں عرب لیگ نے حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ جنگ اور جارحیت کےبجائے امن کا راستہ اختیار کرے اور بات چیت کی طرف آئے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے آج اتوار کو ایک بیان میں حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں اور بمبار ڈرونز سے سعودی عرب میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

ایمریٹس نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست کی تصدیق کی ہے کہ حوثی گروپ کے مسلسل حملے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی، یمنی بحران کے خاتمے کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں اور تمام بین الاقوامی مساعی کی بے توقیری کی عکاسی کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں