یمن اور حوثی

یورپی یونین کی سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیر کے روز یورپی یونین نے سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی۔

یورپی یونین نے کہا کہ شہریوں پر حوثی حملے ناقابل قبول ہیں اور انہیں روکنا جانا چاہیے۔

اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکا مملکت کے دفاع کے لیے سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا۔

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے اتوار کے روز جازان، خمیس مشیط، طائف، ینبع اور جنوبی ظہران کی طرف حوثی ملیشیا کے چھوڑے گئے9 بمبار ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا۔ ان بمبار ڈرونز سے خمیس مشیط میں ایک گیس اسٹیشن اور جنوبی ظہران میں ایک بجلی ٹرانسمیشن اسٹیشن شامل کو نشناہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اتحاد نے مزید کہا کہ ملیشیا نے جازان میں آرامکو کے ڈسٹری بیوشن اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ الشقیق میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نشانہ بنانے کے لیے ایرانی کروز میزائلوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ فضائی دفاعی فورسز نے جازان کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔

اتحاد نے اشارہ کیا تھا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اقتصادی تنصیبات اور شہری املاک کو نشانہ بنانے والے دشمنانہ حملوں میں اضافہ امن کی کوششوں اور اقدامات کو مسترد کرنا اور خلیجی ممالک کی امن کی کوششوں کو مسترد کرنے کے کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے سرحد پار سے دشمن کے حملوں کے آغاز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دشمن کے حملوں میں شہریوں کی گاڑیوں اور رہائشی مکانات کو مادی نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں