’انڈونیشی صدرالدین جو جازان کی ثقافت میں رچ بس گیا‘

بیس سال سے جازان میں مقیم صدرالدین اپنے خاندان کو بھی یہاں لانا چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انڈونیشیا سےتعلق رکھنے والے صدرالدین کو اندازہ نہیں تھا کہ سعودی عرب کے جنوب میں واقع جازان کا علاقہ اس کے لیے’مثالی مقام‘ ثابت ہوگا۔ صدر الدین بیس سال قبل جازان میں آیا یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ اس نے جازان کی مقامی عربی بولی سیکھ لی، اس کے کھابوں کا اسیر ہوگیا اور اس علاقے کے کلچر میں رچ بس گیا۔ صدر الدین اب اس علاقے کو اپنا وطن قرار دیتا ہے اور اسے چھوڑ کر کہیں جانا نہیں چاہتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں صدرالدین نے مملکت میں اپنی موجودگی اور عربی زبان سیکھنے کی کہانی سنائی۔اس نے کہا کہ جازان پہنچنے پر انہوں نے جازان کی بولی سیکھی جس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ اس علاقے کے باشندے بہت مہمان نواز ہیں پیار کرنے والے ہیں۔وہ یہاں آنےوالوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔

جازانی کھانے اور ماکولات

"صدرالدین" نے مملکت اور جنوبی علاقے سے اپنی محبت اور جازانی کھانوں کو پسند کرنے کے بارے میں بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جازان میں کئی کھانے مشہور ہیں اورانہیں بہت پسند ہیں۔ مرسہ، مغش، الحیسیہ اور مچھلی مشہور کھابے ہیں۔

صدر الدین نے کہا کہ میں بیس سال سے یہاں ہوں اور اب میں یہاں کے کلچر اور ثقافت میں رچ بس گیا ہوں۔ میں جازان کی بولی بولتا ہوں اور یہاں کے روایتی کپڑے زیب تن کرتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ انڈونیشیا میں موجود میرا کنبہ بھی میرے ساتھ یہاں آجائے۔

انہوں نے کہا کہ میں فطرت سے محبت کرتا ہوں، جازان میدانوں، پہاڑوں اور سمندر میں گھرا ایک فطری مقام ہے۔

صدرالدین کے ایک مقامی دوست "محمد القمیری" نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ صدرالدین جازان اور اس کے لوگوں سے محبت کرتےہیں۔ صرف جازان کے روایتی ملبوسات پہنتے ہیں۔ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ جازانی ہیں۔اس کے لوگوں میں وہ گھل مل گئے ہیں۔ المقیری کا کہنا ہےکہ صدرالدین جازان کے سیاحتی مقامات کے بھی بہت دلدادہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں