امریکی پولیس میں ملازمت کرنے والے سعودی شہری سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے ایک شہری طلال التونسی نے دارالحکومت میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنےکے بعد بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے امریکا جانے کا فیصلہ کیا۔امریکا پہنچنے کے بعد انہوں نے سیکیورٹی سروس جوائن کی خواہش محسوس کی۔ انہوں نےقانونی تمام تقاضے پورے کرنے کے بعد امریکا میں پولیس میں شمولیت اختیارکی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں التونسی نے سیکیورٹی کے شعبے سے اپنی محبت کی وجوہات بیان کیں۔انہوں نے بتایا کہ میں 4 سال قبل ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں امریکی پولیس میں بھرتی ہوا۔ ایک مسلمان اور عرب شہری ہونے پر فخر ہے۔میں مسلمان ہو کرشہریوں کی مدد کرتا ہوں۔ یہاں اپنے ملک اور سعودی عرب کی نمائندگی کر رہا ہوں اور یہ کام کرنے کا سب سے بڑا محرک ہے۔

سعودی نوجوان طلال التونسی
سعودی نوجوان طلال التونسی

سعودی نوجوان پولیس میں شمولیت تک کئی مراحل سے گذرا۔ دستاویزات کی جانچ، ذاتی انٹرویو، جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ، انگریزی زبان کی مہارت کی پیمائش، جسمانی فٹنس کی جانچ کے مراحل سے گذرا۔ انہوں انکشاف کیا کہ ہیوسٹن پولیس میں داخلے کے لیے امریکی پاسپورٹ کا ہونا ضروری ہے اور کم ازکم 48 گھنٹے یونیورسٹی کے اوقات کا مطالعہ اوراچھے گریڈ سے پاس ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ امیدوار کا ریکارڈ کسی بھی مجرمانہ واقعے سے پاک ہونا ضروری ہے۔

تونسی کے مطابق وہ پہلے عرب اور سعودی ہیں جنہوں نے ہیوسٹن پولیس میں اپنی کلاس میں ایک بہترین اعزاز حاصل کیا کیونکہ انہوں نے اکیڈمک اسٹڈیز میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور کمانڈ اینڈ شوٹنگ کے شعبے میں پہلی پوزیشن پائی۔

التونسی کو اپنے کام کے دوران حملوں، قتل اور خودکشی کے درمیان کئی تجربات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کی یاد اپنے کیریئر کا ایک اہم واقعہ نہیں بھولتی جہاں بندوق نوک پر ایک لڑکی کی اغوا کی رپورٹ سامنے آئی۔

اس افراتفری کے درمیان تونسی نے متاثرہ لڑکی کو بازیاب کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران اغوا کار لڑکی اور پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور ساتھ ہی چاقو سے حملہ کردیا۔

اس کے جسم میں پانچ گولیاں لگیں۔ سعوی شہری نے اسے باہر نکالا اور ایمبولینس کے آنے تک ابتدائی طبی امداد دی۔ چند ماہ بعد سعودی نوجوان کو پولیس چیف کے دفتر میں طلب کیا گیا جہاں اس کی تکریم کی گئی۔

پولیس کی طرف اپنے جھکاؤ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میرے دادا بریگیڈیئر جنرل عبدالرحمن التونسی کا میری خواہشات پر گہرا اثر ہے کیونکہ انہوں نے کئی دہائیوں تک ملک کی خدمت کی اور صحرائی طوفان میں حصہ لیا۔ اس لیے میں ان کا خوشبودار کیریئر مکمل کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب میں فوجی افسر بننے کے لیے اپنا خواب پورا کرنا چاہتا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں