عراق داعش کی دراندازی روکنے کے لیے شام کے ساتھ سرحد پردیوارتعمیرکررہاہے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے انتہاپسندوں کو دراندازی سے روکنے کے لیے شام کے ساتھ واقع اپنی سرحد کے کچھ حصے میں کنکریٹ کی دیوار تعمیرکررہا ہے۔

عراقی فوج کے ایک سینیرافسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پراے ایف پی کو بتایا کہ تعمیر کے’’پہلے مرحلے‘‘میں عراق کے شمال مغربی صوبہ نینوا میں واقع علاقے سنجار میں کوئی بارہ کلومیٹر (سات میل) لمبی اور 3.5 میٹر(11 فٹ) اونچی دیوار تعمیر کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ عراق کی شام کے ساتھ 600 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد واقع ہے۔ وہ اپنے علاقے میں داعش کے ارکان کی دراندازی کو روکنا چاہتا ہے۔عراق نے 2018ء میں اسی وجہ سے شام کے ساتھ سرحد پر باڑکی تعمیرشروع کردی تھی۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ دیوار شام کے صوبہ الحسکہ کے جنوب میں واقع شہرالشدادی کی طرف علاقے میں تعمیر کی گئی ہے۔

جنوری میں کردوں کے زیرانتظام صوبہ میں داعش کے جنگجوؤں نے اپنے ساتھی انتہاپسندوں کو چھڑانے کے لیے ایک جیل پرحملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں کئی روز تک جھڑپیں ہوئی تھیں اور ان میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رصدگاہ نے بتایا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ جیل سے بہت سے قیدی فرارہوگئے تھے،ان میں سے کچھ پڑوسی ملک ترکی یا شام کے شمال میں ترکی کے زیر قبضہ علاقے میں چلے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 2014ء میں داعش کے جنگجوؤں نے بڑی سرعت سے جنگی کارروائیاں کرتے ہوئے عراق اور شام کے بڑے حصے پرقبضہ کر لیا تھا مگرتین برس کے بعد 2017ء کے آخر میں عراقی سکیورٹی فورسز نے داعش کوشکست سے دوچارکیا تھا۔

اس کے بعد داعش کے جنگجو عراق کے خودمختارعلاقے کردستان اور دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع علاقوں میں روپوش ہوگئے تھے اور اب سخت گیر جنگجوؤں نے وہاں خاص طور پردیہی اور پہاڑی علاقوں میں نچلی سطح کی باغیانہ سرگرمی اور تخریبی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں