روس،یوکرین جنگ کے سبب مشرق اوسط زیادہ کمزور علاقوں میں سے ایک ہے:آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اس وقت زیادہ تربین الاقوامی توجہ یوکرین پرروس کے حملے پرمرکوز ہے لیکن گذشتہ ایک ماہ سے جاری یہ جنگ مشرقِ اوسط کے خطے پرایک سے زیادہ طرح سے براہِ راست اثرانداز ہو رہی ہے۔

ایک طرف امریکا کی قیادت میں مغرب اوپیک پلس کے رکن خلیجی ممالک پر تیل کی یومیہ پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ دوسری جانب خطے کے متعدد ممالک کو خوراک کی قلّت کے خطرے کا سامنا ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک سینیرعہدہ دار کا کہنا ہے کہ مشرقِ اوسط اجناس پرانحصار کی وجہ سے دنیا کے سب سے زیادہ کمزورخطوں میں سے ایک ہے۔واشنگٹن میں صحافیوں کے ایک گروپ سے اس پس منظر پر بات کرتے ہوئے عہدہ دار نے کہا کہ’’ یہ خطہ غذائی اجناس کی اعلیٰ سطح کی کھپت کے لیے معروف ہے‘‘۔

مثال کے طورپرلبنان میں صرف ڈیڑھ ایک ماہ کے لیے گندم دستیاب تھی اور وزیرامین سلام نے رمضان المبارک کے آیندہ مہینے میں تیل، چینی اور دیگر درآمدات کی’’زیادہ کھپت‘‘کے بارے میں خبردار کیاہے۔

مینا خطے کے متعدد دیگر ممالک درآمدی گندم کے لیے یوکرین اور روس پرانحصار کرتے ہیں۔مصر کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے روٹی جیسی اشیاء پرزرتلافی(سبسڈی) بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔

جبکہ آئی ایم ایف کے عہدہ دار کا کہنا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک ’’بہت اچھی کارکردگی‘‘کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ان کے بہ قول افراط زر ایک ایسا عنصرہے جس سے خطے کا کوئی بھی ملک نہیں بچ پائے گا۔انھوں نے یوکرین میں جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’یہ سب دوسرے دورکے(افراطِ زرکے)اثرات ہیں‘‘۔

تیل کی رسد میں کمی نہیں

امریکا نے یورپ کے بیشترعلاقوں میں روس سے تیل کی درآمدات پرپابندی عاید کردی ہے۔اس فیصلے کے بعد ماسکو اپنے تیل کو تیسرے ممالک کے راستے یورپ اور حتیٰ کہ امریکاتک پہنچتا دیکھ رہا ہے۔تاہم اس فیصلے کے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اندرون ملک تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدہ دار کے مطابق تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے پیداوار میں اضافہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔قیمتوں میں اس طرح اضافہ کرنے کے لیے سپلائی کا جھٹکا نہیں لگا ہے جس طرح ان کے پاس یہ ہتھیارہے؛ یہ ایک جغرافیائی سیاسی مسئلہ ہے‘‘۔تاہم اس عہدہ دار کا کہنا تھا کہ عوام کو تیل اور گیس میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔

روسی تیل پر پابندیوں کے نتائج اتنے نقصان دہ نہیں جتنے ماسکو سے کسی ملک کے لیے گیس کی ترسیل کو روکنے کے فیصلے کے ہوسکتے ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن بنیادی طورپرقدرتی گیس کی نقل وحمل کے لیے بنیادی ڈھانچے کے قیام میں کئی سال لگتے ہیں۔اس میں ایل این جی ٹینکروں کی ضرورت اور گیس کی نقل وحمل اور درآمد کے لیے دیگرتکنیکی طریق کار بھی شامل ہیں۔

جہاں تک تیل کا تعلق ہے، دنیا کی طلب قریباً 10 کروڑ بیرل یومیہ ہے۔امریکا کی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن(توانائی اطلاعات انتظامیہ) کے مطابق روس روزانہ صرف 50 لاکھ بیرل خام تیل کی پیداوار کا ذمہ دار ہے اورپابندیوں کے باوجود روس سے اب بھی چین اور بھارت جیسے ممالک رعایتی نرخوں پر تیل خرید کررہے ہیں۔

یہی بات ایران کی تیل برآمدات پر بھی صادق آتی ہے اور وہ پابندیوں کے باوجود نہیں رکی ہیں۔آئی ایم ایف کے عہدہ دار نے بتایا کہ تہران تمام منڈیوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اپنا تیل’’رعایتی شرح‘‘ پرفروخت کرنے پر مجبور ہے۔

آئی ایم ایف کے عہدہ دارکے مطابق اگرامریکا اورایران کے درمیان مستقبل قریب میں کوئی جوہری معاہدہ طے پاجاتا ہے اور پابندیوں سے نجات ایرانی تیل کو عالمی منڈی میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے تواس سے تیل کی اندرون ملک قیمتوں پر بہت کم اثر پڑے گا۔نیزاس وقت مارکیٹ میں تیل کی رسد میں اضافے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کے موجودہ بحران کی ایک اہم وجہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا فقدان ہے کیونکہ مزید سیاستدان ’’صاف متبادل توانائی‘‘ کی تلاش میں ہیں۔

مارکیٹ میں سدھار کی ایک کلید توانائی کے بارے میں امریکاکی پالیسی ہوسکتی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کے مشیروں اورعہدے داروں کی زیادہ ترتوجہ نام نہاد صاف توانائی کے حصول اورموسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے پرمرکوزرہی ہے۔متعدد یورپی ریاستوں نے بھی اسی طرح کی پالیسیاں اپنائی ہیں۔

روسی گیس پر سب سے زیادہ انحصار کرنے والے ممالک میں سے ایک جرمنی ہے۔ اس کی سابق چانسلرانجیلا میرکل کے دور میں جوہری توانائی کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کی کمی نے جرمنی کو گیس کی تمام روسی درآمدات کو ختم کرنے کے معاملے میں ایک مشکل میں پھنسا دیا ہے۔

آئی ایم ایف کے عہدہ دار نے کہا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران میں تیل کی پیداوارکے ضمن میں (عالمی سطح پر) کم سرمایہ کاری ہوئی ہے۔پیر کو متحدہ عرب امارات کے وزیرتوانائی اس بات سے متفق نظرآئے۔ سہیل المزروئی نے الشرق بزنس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:’’جب ہم نے یہ کہا کہ تیل اورگیس میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تو کسی نے نہیں سنا تھا‘‘۔

ساؤتھ اسٹریم پائپ لائن

عہدہ دار نے گیس کی تلاش، پیداوار اور برآمد میں مصر کے کردارکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کے علاوہ مصر’’بالکل ٹھیک ہے‘‘۔

مصر کے ساتھ ساتھ الجزائر اور قطرکو بھی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یورپ توانائی پرانحصارکو متنوع بنانے کی کوشش کررہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن رواں ہفتے الجزائر جائیں گے جہاں وہ افریقا میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے تجارتی شو ’’انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر‘‘کا امریکا کے اعزازی ملک کے طورپرافتتاح کریں گے۔

آئی ایم ایف کے عہدہ دارنے آذربائیجان سے ساؤتھ اسٹریم پائپ لائن منصوبہ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پرہونے والی بات چیت کا انکشاف کیا ہے۔البتہ یہ بات بہت مشکوک ہے کہ امریکا اس ضمن میں ان تیسرے ممالک کے خلاف پابندیوں کی منظوری دے گا جو اس وقت یا مستقبل قریب میں روسی گیس کومغرب تک پہنچا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2014ء میں روس کے یوکرین کے علاقے کریمیا پرقابض ہونے اور اس کو ضم کرنے کے بعد ساؤتھ اسٹریم پائپ لائن منصوبہ ختم کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں