امریکا : دہشت گردی کی فہرست سے پاسداران انقلاب کا نام خارج نہ کرنے کے لیے دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے ارکان نے جوہری سمجھوتے کے معاملے اور ایرانی پاسداران انقلاب اور حوثی ملیشیا کے ناموں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کے حوالے سے جو بائیڈن کی انتظامیہ پر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

کانگریس میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے رکن اور ریپبلکن سینیٹر بل ہیگرٹی کا کہنا ہے کہ "بائیڈن نے ایرانی پاسداران انقلاب کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے ہٹا دیا جس کے بعد حوثی دہشت گردوں نے امریکا کے حلیفوں پر حملے جاری رکھے۔ بائیڈن اب پاسداران انقلاب کا نام دہشت گردی کی فہرست سے خارج کرنا چاہتے ہیں تا کہ ایران کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ طے پا سکے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہو گا"۔

ادھر ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے "ایران انٹرنیشنل" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں باور کرایا کہ انہیں پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد جماعتوں کی فہرست سے نکالے جانے کے امکان کے حوالے سے گہرے اندیشے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ پاسداران انقلاب کا نام دہشت گرد جماعتوں کی فہرست سے کیوں نکالا جانا چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس اقدام کے عوض ہمیں کیا ملے گا"۔

کرس کونز کے مطابق ایران میں انسانی حقوق کی پامالی ، خطے میں تشدد کا پھیلاؤ اور تہران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ،،، ان امور کو مذاکرات میں مد نظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے باور کرایا کہ صرف جوہری قضیے پر توجہ مرکوز رکھنا کافی نہیں ، اچھے معاہدے میں ایران کی سرگرمیوں کے تمام پہلوؤں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

امریکی سینیٹر نے کہا کہ ایران اس وقت کم از کم تین بڑی غلطیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔ وہ وسیع پیمانے پر مسلسل ایرانی شہریوں کے حقوق پامال کر رہا ہے۔ وہ لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کو سپورٹ کر رہا ہے جو خطے میں اور یہاں تک کہ پوری دنیا میں تشدد پھیلا رہے ہیں۔ ایران کی تیسری بڑی غلطی بیسلٹک میزائلوں کا پروگرام جاری رکھنا ہے۔

امریکی اخبار The Hill کے مطابق ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کو اندیشہ ہے کہ ایران کے ساتھ آئندہ ہونے والا نیا جوہری معاہدہ ،،، 2015ء میں سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے طے پانے والے سمجھوتے سے کہیں زیادہ کمزور ہو گا۔ اس لیے کہ امریکا وقت اور نفوذ دونوں چیزیں کھو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں