ایران

امریکا کی تازہ ترین پابندیوں کا ہدف کون سی ایرانی شخصیت ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

واشنگٹن نے ایک ایرانی شہری پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب مغرب اور ایران کے بیچ 2015ء میں طے پائے گئے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے جاری بات چیت آخری مراحل تک پہنچ چکی ہے۔

اس مرتبہ امریکی وزارت خزانہ کی پابندیوں کی لپیٹ میں آنے والے ایرانی شہری کا نام محمد علی حسینی ہے۔ حسینی اور اس کے زیر انتظام کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بیلسٹک میزائل کے پروگرام کے لوازمات حاصل کرنے میں تہران کی مدد کی۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ حسینی اپنی کمپنیوں کو بیلسٹک میزائل سے متعلق مشینری سے مربوط مواد خریدنے کے واسطے استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک یونٹ کے لیے مواد خریدتا ہے۔ یہ یونٹ بیسلٹک میزائلوں سے متعلق تحقیق اور ترقی کے امور کا ذمے دار ہے۔

واضح رہے کہ یہ امریکی فیصلہ عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل پر ایرانی میزائل حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتوں کے دوران میں حوثی ملیشیا نے بھی سعودی عرب اور امارات میں تیل کی کئی اور متعدد شہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ میں دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے امور کے سکریٹری بائن نیلسن نے گذشتہ شام ایک بیان میں کہا کہ "امریکا کی جانب سے ایران کو مشترکہ جامع عملی منصوبے (جوہری معاہدے) کی مکمل پاسداری پر واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں ،،، ایسے میں ہم ایرانی بیلسٹک میزئال پروگرام کو سپورٹ کرنے والے افراد کو ہدف بنانے میں ہر گز نہیں ہچکائیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں