ایران

پاسداران کا نام دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کو مسترد کرتے ہیں: ریپبلکنز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکن ارکان نے صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مںظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے۔ ارکان نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس سمجھوتے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جائے گی۔

بعض ڈیموکریٹس نے بھی سابقہ جوہری معاہدہ بحال کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں نے امریکی سینیٹ میں بعض ریپبلکن ارکان تک رسائی حاصل کر کے ان کے مواقف جانے۔

امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب ایک دہشت گرد تنظیم ہونے کی حیثیت سے بے شمار امریکیوں کے قتل کی کارروائیوں کی فنڈنگ کرتی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ "غیر شفاف" طریقے سے یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ پاسداران انقلاب امریکا کے لیے معاند دہشت گرد تنظیم سے ہٹ کر کچھ اور ہے۔

ریپبلکن سینیٹر جوش ہاؤلی نے بھی امریکی انتظامیہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اس مرحلے پر ایران کے حوالے سے اس کی پالیسی کو بالکل مختلف اور خطرناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو چاہیے کہ ایران کو اس طرح کا "کمزوری کا پیغام" نہ بھیجے جس طرح کا پیغام تقریبا ایک برس قبل روسی صدر ولادی میر پوتین کو ارسال کیا گیا تھا۔ اُس وقت امریکا نے گیس کے شعبے سے متعلق ایک روسی کمپنی پر عائد پابندیاں اٹھا لی تھیں۔ یہ کمپنی پوتین کی حلیف شمار ہوتی ہے۔ ہاؤلی کے مطابق یہ وقت ایران پر عاید پابندیوں میں نرمی کرنے کا نہیں ہے۔

ادھر جیمز لینکفرڈ نے العربیہ اور الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے متعلق واشنگٹن کی فہرست سے ایرانی پاسدارن انقلاب کا نام نکالنے کے خیال کو "خوف ناک" قرار دیا۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ پاسداران انقلاب امریکیوں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے لہذا ایران پر پابندیاں عائد رہنا چاہئیں۔

ریپبلکن سینیٹر رون جونسن نے تہران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے امریکی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ دس ارب ڈالر کے ساتھ ویانا جانا اور اس سے زیادہ کی پیش کش کا ارادہ رکھنا یہ سب بے معنی ہے۔

ریپبلکن ارکان کے یہ مواقف ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈیموکریٹس کی اکثریت اس بات پر مصر ہے کہ جوہری معاہدی ہی ایران کو ایٹمی ہتھیار کے حصول سے روکنے کا واحد راستہ ہے۔ ایک ہفتہ قبل جوہری بات چیت کے حوالے سے ایک خفیہ اجلاس کے بعد ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے یہ ہی بات کی تھی۔ مرفی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرنے والے واحد سینیٹر تھے۔

اس وقت مرفی نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران ایٹم بم تیار کرنے کی جانب خوف ناک حد تک قریب آ چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں