تصاویر: بحری جہاز "الجبیل" سعودی بحریہ کے حوالے کرنے کی پروقار تقریب کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں نیول فورسزکے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ الغفیلی نے سروت کارویٹ پروجیکٹ "Avante 2200" کے پہلے جہاز کا افتتاح کیا ہے جسے سرکاری طور پر الجبیل کا نام دیا گیا تھا۔ بحری افواج کے کمانڈر نے شاہی سعودی بحری افواج کے ساتھ خدمت میں داخلے کے موقع پر سعودی عرب کا پرچم لہرایا۔

مملکت اسپین میں خادم حرمین شریفین کے سفیر اعظم بن عبدالکریم القین، رائل سعودی نیول فورسز کے کئی سینیر افسران، میڈرڈ میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے ملٹری اتاشی اور سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی "SAMI" کے سی ای او انجینیر ولید بن عبدالمجید ابو خالد، اسپانوی نیول فورسز کے چیف آف سٹاف، لیفٹیننٹ جنرل انتونیو مارٹوریل، اسپانوی حکومت کے متعدد سینیر حکام اور "سامی ناوانتیا" اور "اسپانوی ناوانتیا" کمپنیوں کے نمائندوں نےشرکت کی۔

اس موقع پر رائل سعودی نیول فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ الغفیلی نے الجبیل جہاز پہلے سروت منصوبے کے آغاز کے لیے اس شاندار کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ رائل سعودی نیول فورسز کی خطے میں میری ٹائم سیکورٹی کو بڑھانے اور مملکت سعودی عرب کے اہم اور سٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے تیاری، مسلح افواج کی طرف سے بالعموم اور بحریہ کی طرف سے بالخصوص بحری افواج کے لیے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اوران کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی طرف سے بحری افواج کی لامحدود حمایت کو سراہا۔

سعودی ملٹری انڈسٹریز "سامی" کے سی ای او انجینیر ولید بن عبدالمجید ابو خالد نے کہا کہ اس موقع پرسعودی دفاعی صنعت کا شعبہ اور SAMI اس کامیابی پر فخر کرنے کے حقدار ہیں۔ یہ کامیابی سرکردہ اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔

"الجبیل" اس حوالے سے منفرد ہے کہ اس میں تمام فضائی، سطحی اور زیر زمین خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید ترین جنگی نظام کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک وار فیئر شامل ہے۔اس میں دنیا کی بہت سی بحری افواج سے زیادہ صلاحیتیں ہیں سروت پروجیکٹ کا پہلا سعودی جنگی انتظامی نظام "100%" سے لیس ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں