اردن کے شہزادہ حمزہ شاہی خطاب سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اردن کے شہزادہ حمزہ بن الحسین نے خود کے شہزادے کے خطاب سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اردن کے تخت کے سابق وارث شہزادہ حمزہ پر گذشتہ سال غیرملکی محرک کی بنا پرایک سازش کے ذریعے بادشاہت کوغیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

شہزادہ حمزہ نے اپنے آفیشل ٹویٹراکاؤنٹ پراتوار کو ایک بیان پوسٹ کیا ہے۔اس میں انھوں نے لکھاہے کہ ’’انھوں اپنا خطاب ترک کردیا ہے کیونکہ ان کی اقدارہمارے اداروں کے نقطہ نظر، رجحانات اور جدید طریقوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں‘‘۔

شاہ عبداللہ دوم اور حمزہ دونوں مرحوم شاہ حسین کے بیٹے ہیں۔انھوں نے 1999ء میں اپنی موت سے قبل قریباً نصف صدی تک اردن پر حکومت کی تھی۔

شاہ عبداللہ نے تخت نشین ہونے کے بعد شہزادہ حمزہ کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا لیکن 2004ء میں ان سے یہ خطاب چھین لیا تھا۔

اردن کے شاہی محل کے مطابق شہزادے نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں مبیّنہ سازش میں اپنے کردار پرمعذرت کی تھی۔ان پرگذشتہ سال مملکت کو غیرمستحکم کرنے کی سازش میں ملوّث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔اس کے بعد گذشتہ اپریل میں انھیں گھر پرنظربند کردیا گیا تھا۔اس وقت ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

اردن کے شاہی دیوان نے فوری طور پر ان کے نئے اعلان پرکوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں