جدہ: بیوی کو تیزاب سے جلائے جانے کے واقعے کی لرزہ خیز تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے شہر جدہ کی رحاب الزھرانی کو معلوم نہیں تھا کہ سابقہ شوہر کی تلخ یادوں میں وہ جس شخص کواپنے سپنوں کا شہزادہ بنانے جا رہی ہے وہی اس کا قاتل ثابت ہوگا۔

اٹھائیس سالہ رحاب ایک شوہر کے ساتھ اس کی بے وفائی کے باعث نہ رہ سکی اور علاحدگی اختیار کرلی۔ اس شوہر سےاس کی ایک بیٹی بھی تھی۔ رحاب نے بیٹی کی کفالت خود کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس نے سابقہ شوہر سےعلاحدگی کے بعد ایک اور شخص سےشادی کی۔ مگر دوسرے شوہر کےہاتھوں اس کی المناک موت نے سعودی عرب میں شدید صدمے سے دوچار کردیا۔

سعودیوں کے جذبات کو ہلا دینے والے نئے سانحے میں مقتولہ کے کزن ماجد الزہرانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا کہ سیکیورٹی حکام مجرم کو تیزاب سے جلانے کے بعد اسے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ رحاب کی عمر 28 سال ہے، اور اس کے پہلے شوہر سے ایک بیٹی ہے۔ وہ سابقہ شوہر کے ساتھ صرف ایک سال تک چلی جب کہ دوسری شادی دس ماہ بعد اس کی موت پر ختم ہوئی۔

قتل کی وجہ بنک کا قرض

ماجد نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ اس کا اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جھگڑا اس لیے تھا کہ اس کے پاس نوکری نہیں تھی۔ دوسرے شوہرنے اسے قرض کے لیے درخواست دینے کو کہا مگراس نے انکار کردیا۔ اس پر شوہر نے رحاب پر تشدد کیا۔ رحاب اپنی ماں کے ساتھ پولیس کے پاس گئی۔ پولیس نے دونوں میں صلح کرادی۔

رحاب کو تیزاب سے جلانے کے بارے میں الزہرانی نے کہا کہ مجرم اگلے دن رحاب پاس آیا۔ اس وقت وہ اپنے ساتھ تیزاب لایا تھا۔ اس رحاب اور اس کی بچی پر تیزاب چھڑکا۔ یہ جو کچھ ہوا وہ ناقابل یقین ہے۔ مرنے سے قبل رحاب نے اپنی ماں سے مختصر بات کی۔ اسے اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ دم توڑ گئی۔ بچی کو شدید زخمی حالت میں مکہ کے النور اسپتال میں پلاسٹک سرجری کے عمل سےعلاج کیا جا سکتا ہے۔

چار لاکھ ریال

مقتولہ رحاب الزہرانی کی ماں نے کہاکہ اس کی بیٹی کے شوہر نے پڑوسیوں اور ہر اس شخص پر تیزاب ڈالا جنہوں نے اپنی بیٹی اور اس کی نواسی کو بچانے کی کوشش کی۔

اس نے کہا کہ جلنے کے نتیجے میں اس کی بیٹی کے خدوخال بدل گئے۔س کے جسم کا تجزیہ کرنے کے لیے ابھی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ متاثرہ کے شوہر نے ہمیشہ اس پر چار لاکھ ریال کا قرضہ لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

" بیٹی کے لیے وصیت"

مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ اس گھناؤنے جرم کا شکار ہونے کے دوران رحاب نے اس سے رابطہ کیا۔ اس وقت وہ مررہی تھی۔اس نےبتایا کہ شوہر نے اس پر اور اس کی بیٹی تیزاب پھینک دیا ہے۔ رحاب نے اپنی ماں سے اپنی بچی کے بارے میں بات کی اور کہا کہ بچی ان کے پاس امانت ے۔

اس نے مزید کہا کہ اس کی بیٹی ہمیشہ کہتی تھی کہ میں اس کے ساتھ محفوظ محسوس نہیں کرتی،کیونکہ وہ کئی بار اسے قتل کی دھمکیاں دے چکا تھا۔

مقتولہ کی ماں نے بتایا کہ رحاب بچی کی پرورش کے لیے ایک بیوٹی کمپنی میں ملازمت بھی کرتی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں