لکڑی اور مٹی سے بنے سعودی عرب میں پرانے گھر اور گلیاں دیکھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پرانے محلوں کے لیے اپنے جذبے اور محبت سے کارفرما سعودی شہری جاسم بن محمد ایک منفرد اور خوبصورت انداز میں ورثے کے مجسمے بنا رہے ہیں جو الاحساء میں پرانے وقت کو لڑکی کی سادہ ٹہنیوں اور مٹی سے زندہ کرتے ہیں۔

انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ کچے مکانات ان کے لیے بہت معنی رکھتے ہیں۔ یہ پرانی عمارتیں آباؤ اجداد کے ورثے کا حصہ ہیں۔

پرانے مکانات کی مجسمہ سازی کے لیے اپنی دلچسپی اور محبت کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے جاسم محمد نے کہا کہ میں بچپن سے ہی آرٹ کی تعلیم کی کلاس کو پسند کرتا تھا۔ میں مٹی کے پیسٹ اور ٹہنیوں کا استعمال کرتے ہوئے ہیریٹیج ماڈل جیسے گملوں، بالٹیوں اور مٹی کے گھر بنانے کی مشق کرتا رہتا۔

اس نے مزید کہا کہ میں اپنے خاندان کے ہمراہ چاہے سمندر کا سفر کروں ، زمین یا کھیت کا میں اپنے شوق کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ریت، مٹی اور پانی کا استعمال کرتے ہوئے چھوٹے ماڈل اور مٹی کے گھر بنانے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔

میرے مشاغل نے دبائی ہوئی لکڑی، انسولیٹنگ کارک، سیمنٹ، جپسم اور مٹی کا استعمال کرتے ہوئے آرٹ کو ترقی دی ہے۔

اس نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں اپنی تیار کرد آرٹ ڈرائنگز پر مشتمل ایک میوزیم کھولوں۔ آخر کار میرا یہ خواب پورا ہوگیا۔ جس میں مملکت کے ماضی کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ میں نے آرٹ کی کئی نمائشوں میں حصہ لیا۔ الاحساء گورنری کے اندر اور باہر زائرین کی بڑی تعداد نے ان نمائشوں میں شرکت کی۔

جہاں تک ان کے مجسم کردہ سب سے اہم مجسموں کا تعلق ہے، اس نے وضاحت کی کہ اس نے بہت سے ماڈل پیش کیے جن میں آثار قدیمہ کی علامت ابراہیم محل، قیصریہ مارکیٹ جو کہ مشہور ترین بازاروں میں شمار ہوتی ہے، قصر صاعود، سراج محل، جبل القارہ اور الاحساء اور اس کے خوبصورت گھروں کے کچھ فارمزجو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماڈلز کی تیاری علامتی مقام، اس کی تفصیلات اور مطلوبہ سائز پر منحصر ہے۔ ان میں سے کچھ کو ماڈل کے لحاظ سے 4 سے 10 دن درکار ہوتے ہیں، اور کبھی کبھی یہ 24 گھنٹے میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں