’میں اپنی بیٹی کے حق سے دست بردار نہیں ہوں گا‘:تیزاب سے جلائی بچی کے والد کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کےشہر جدہ میں تیزاب سے جلائی گئی کم سن بچی کے والد نے بچی کے حقوق کی جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سعودی شہری عبدالعزیز الزھرانی کی بیوی نے علاحدہ ہونے کے بعد ایک اور شخص سے شادی کرلی تھی۔ خاتون نے پہلے شوہر کی ایک کم سن بچی کو بھی اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ دوسرے شوہر نے چند روز قبل خاتون اور اس کی بچی مہا پر تیزاب پھینک کر انہیں جلا دیا تھا۔ خاتون چل بسی تھیں جب کہ بچی فی الحال ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سےبات کرتے ہوئےعبدالعزیز الزھرانی نے کہا کہ جس نوعیت کا تیزاب ان کی بچی اور سابقہ بیوی پر چھڑکا گیا وہ مادہ بہت خطرناک ہے۔ اگرچہ وہ گاڑیوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں، لیکن وہ مادہ کی سنگینی کے باعث جب تک بالکل ضروری نہ ہو، اسے استعمال کرنا پسند نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری بیٹی مہا کے پاؤں چوتھے درجے کے شدید جھلسنے کے باعث بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ یہ کہ بچی بیماری اور والدہ کے کھو جانے کی وجہ سے مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کو طبی اور پلاسٹک سرجری کے علاج کی ضرورت ہے۔ وہ اب بھی مکہ کے "النور ہسپتال" میں زیرعلاج ہے جس کے پاس یہ خصوصیات نہیں ہیں کیونکہ اسے بچوں کے علاج اور پلاسٹک سرجری کے لیے جدید ترین اسپتال میں علاج کی ضرورت ہے۔ .

انہوں نے مزید کہا کہ وہ حیران ہیں کہ اس مادے کو فروخت کرنے اور گھروں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ یہ معاملہ خطرناک ہے اور اس کے استعمال اور اسے مخصوص جماعتوں کو فروخت کرنے پر قابو پانا ضروری ہے کیونکہ یہ ایک ایسا کیمیکل ہے جس کا خطرہ سوفی صد بڑھ جاتا ہے۔

المناک واقعے پرپورے ملک میں شدید صدمے اور غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

مقتولہ کی موت اس کے شوہر کے ہاتھوں اس وقت ہوئی جب جدہ کے مشرق میں ایک محلے میں اس کے جسم پر تیزاب ڈالا گیا اور اس کی بیٹی بری طرح جھلس گئی اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت میں ہے۔

شہریوں نے مسجد الحرام میں ظہر کی نماز کے بعد مقتولہ کی نماز جنازہ ادا کی اور اس کی میت کو الشرائع میں حرم شہداء قبرستان میں اس کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعاؤں کےساتھ دفن کیا گیا۔

مقتولہ رحاب کی بہن جمیلہ الزہرانی نے انکشاف کیا کہ خاندان نے مجرم شوہر کو پولیس اسٹیشن میں دیکھا تھا۔ اسے اپنے گھناؤنے جرم پر کوئی پچھتاوا نہیں۔

اس نے مزید کہا کہ جب اس نے اپنی بہن کے قاتل کو پولیس اسٹیشن میں اپنے سامنے دیکھا تو وہ خود پر اور اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی جہاں اس نے اسے "مجرم" کہا تاہم مجرم نےاسے کوئی جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں