سعودی عرب:عوام میں مقبول عسیرکی نائن بائی’ام شاکر‘ سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے علاقے عسیرکے بیشتر لوگ’ام شاکر‘ نامی ایک نان بائی خاتون کے نام سے خوب واقف ہیں۔ ام شاکر کی روٹی بنانے کی خفیہ ترکیب ہے۔ اگرآپ عسیر کے علاقے میں آرٹ سٹریٹ میں چہل قدمی کریں تو آپ "ام شاکر" کی روٹی کی خوشبو ضرور سونگھیں گے۔ کیونکہ وہ اس علاقے میں عوامی پکوانوں کی سب سے مشہور شیف ہیں۔ وہ 20 سال سب سے زیادہ عرصے سے عوامی گرم ماکولات اور مشروبات پیش کرتی ہیں۔

تنور کی روٹی

ام شاکر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ روٹی بنانا پسند کرتی ہیں۔ ان کی روٹی عسیر کے علاقے میں آنے والے سیاحوں کو بھی پسند ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ عسیر کے علاقے میں خاص طور پر رمضان کے مبارک مہینے میں تنور کی روٹی یا "میفہ" روٹی ایک مخصوص علامت ہے۔ اسے بنانے کا اپنا ایک طریقہ اور یہ مستطیل شکل میں ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تندور اور روٹی کے قریب پہنچنا ایک سخت عمل ہے۔ جہاں لکڑی کو اس وقت تک تندور کے اندر رکھاجاتا ہے جب تک کہ وہ جل نہ جائے۔ روٹی اس کے اطراف میں چپک جاتی ہے۔ عسیری عورت کو تندور کی روٹی پر مہارت حاصل کرنی چاہیے اور وہ اپنے خاندان سے باہر نہیں نکلتی۔ وہاں کی خواتین روٹی کے ساتھ دودھ، شہد اور شوربے بھی بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ براؤن آٹے کو سفید آٹے کے ساتھ فوری خمیر کے ساتھ گوندھتی ہے۔ اس میں ایک چٹکی نمک، ایک چٹکی چینی، ایک چوتھائی کپ تیل اور ایک چمچ دودھ ڈالر کران چیزوں کو اور آدھے گھنٹےتک ابالنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔ اس کے بعد اس کی روٹی بنا کر اسے تندور میں پکاتی ہے۔ تندوری روٹی عسیر کے رہائشیوں اور زائرین کے لیے سب سے اہم کھانا ہے۔

ام شاکر کا کہنا ہے کہ ایک نئی خاتون کے لیے بیکنگ کرتے وقت خواتین کو تکلیف ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک عورت کو ایک سے زیادہ بار اپنا ہاتھ جلانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جب وہ اس کی عادی ہوجاتی ہے تو اس کے بعد اس کے لیے اس روٹی کی تیاری آسان ہوجاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ام شاکر کا کہنا تھا کہ ’عسیری روٹی‘ اس کا ایک معقول ذریعہ معاش ہے۔ وہ روٹیاں تیار کرتی اور انہیں اپنے گاہکوں کو فروخت کرتی ہے۔ کوئی سفید، کوئی بھوری اور کوئی خمیری روٹی پسند کرتا ہے۔

عسیر کے کھانے

جو کھانے وہ پیش کرتی ہیں اس کے بارے میں ام شاکر نے کہا کہ میں ہر قسم کے کھانے پکاتی ہوں۔ جیسے انگور کے پتے، سموسے، کشری، پیسٹری، عوامی میتھی، تصابیح، مبثوث، رفیفا اور ہر قسم کی مٹھائیاں، ٹھنڈے اور گرم مشروبات.بھی بناتی ہیں۔

اس نے مزید کہا کہ میں کئی سال تک ہر روز یہ سیکھ رہی تھی کہ کھانے کی صنعت میں کیسے مہارت حاصل کی جائے۔ میں اپنے تیار کردہ کھانوں کو مختلف مواقع پر اور ریستورانوں میں پیش کرتی تھی جو کھانے کے لیے خصوصی درخواستیں کرتے تھے جسے میں پیشہ ورانہ طور پر تیار کرنے کی خواہش مند تھی تاکہ میں کھڑے ہو کر فروخت کر سکوں۔

ان کا کہنا تھا کہ عسیری مقبول کھانوں، بشمول روٹی، عریکہ، مسیلہ، مبثوثہ، سموسے اور تنور کی روٹی کی ماہ رمضان میں بہت زیادہ مانگ ہوتی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ رمضان کے مہینے میں اس نے اپنے گھر کو ایک ورکشاپ میں تبدیل کر دیا تاکہ وہ مشہور عسیری کھانے پیش کر سکے۔ وہ کھانے جو ریستورانوں میں پیش کیے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں