کھجورکے پتوں اور مٹی سے آرٹ کےخوبصورت فن پارےتخلیق کرنے والے سعودی آرٹسٹ سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ایک آرٹسٹ عبدالوہاب عطیف فطرت کی رنگنیوں سے بہت متاثرہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مٹی کے کیوب اور کھجور کے پتوں کا استعمال کرتے ہوئے اسے آرٹ کے فن پاروں تبدیل کرنے کا ہنر ایجاد کیا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئےعطیف نے کہا کہ اس نے اپنے پروجیکٹ کے لیے "سادگی اور خوبصورتی سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کے لیے۔۔ ’’میموری آف دی فول " کا عنوان دیا گیا۔ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے عطیف نے مسلسل جدو جہد کی۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا تعلق کسی بھی ایک آرٹ گروپ سے نہیں ہے۔ بلکہ خیال کو آرٹ میں ڈھالنے کے ہر فنکارانہ اسکول اور "اسٹائل" سے استفادہ کیا۔

عطیف نے تاریخ کے مضمون میں گریجوایشن کی۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو جنوبی ثقافتی ورثے کو ایک آرٹ پروجیکٹ کے طور پر پیش کرنے کے لیے وقف کر رکھا ہے جسے اس نے مختلف نفیس طریقوں سے پیش کیا۔ انہوں نے اب تک 300 سے زیادہ آرٹ کے فن پارے تیار کیے جو جنوبی ورثے کی دستاویز سے کم نہیں ہیں۔ اس ورثے کو ایک عصری وژن کے ساتھ پیش کیا جس کے صلے میں اسے 2017ء میں ’سوق عکاظ‘ ایوارڈ جاری کیا گیا۔ اس ایوارڈ کے موقعے پرمقامی اورخلیجی ممالک کے ماہرین اور آرٹسٹوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ فن سے اس کی محبت کا آغاز ابتدائی اسکول کے مرحلے سے ہوا جہاں نوشتہ جات اس کی توجہ کا مرکز بنے۔ اس عرصے میں گھر کی تزئین و آرائش کے لیے اس کی بڑی بہن کی طرف سے استعمال کردہ رنگوں اور ان کی باریکی نے بھی اسے متاثر کیا۔اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی میں اسلامی فنون کی تعلیم حاصل کی اور ساتھ ہی متعدد نامور آرٹسٹوں سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ وہیں سے اس نے فن کی دنیا میں اصل آغاز کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے "میموری آف دی فول" پروجیکٹ کے ذریعے جنوبی ورثے کو مختلف طریقوں سے پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس کا آغاز گھر، بازار اور کھیتوں میں ہونے والے روزمرہ کے واقعات کو ان کی تمام خوشیوں اور تکالیف کے ساتھ ریکارڈ کرنا تھا۔ برسوں کے اس تجربے کے بعد عطیف نے ورثے کے قریب جانے کی خواہش پیدا کی اور نہ صرف اسے ریکارڈ کیا بلکہ اس نے ورثے کے عناصر کو آرٹ ورک میں استعمال کرنا شروع کیا۔

عطیف کے پاس کھجور کے پتوں کی وافر مقدار موجود تھی۔اس لیے اس نے انھیں کینوس کا متبادل بنایا اور وہ اس کے فن پارے میں ایک لازمی عنصر بن گئے۔ اس موضوع پر انہوں نے کہا: "پتے ایک خوبصورت اور متاثر کن مواد ہیں، اور میں نے ان میں تخلیقی صلاحیتوں اور انفرادیت کے لیےکافی جگہ دیکھی۔ یقینا انہیں کام کے لیے تیار رہنے اور کئی سال تک جاری رکھنے کے لیے تیاری کی ضرورت ہے۔

برسوں کے بعد آرٹسٹ عطیف زمین اور انسان سے زیادہ تعلق رکھنے والی ساخت کے ذریعے ورثے کے قریب جانا چاہتے تھے۔ لہٰذا چیلنج مٹی کوفنون لطیفہ کےلیے استعمال کرنا تھا۔

عطیف نے کہا کہ سعودی ورثہ بھرپور اور متنوع ہے۔ آرٹسٹ جتنا اپنے ماحول کے قریب آتا ہے اور اس کے خزانوں کو دریافت کرتا ہے، اتنا ہی وہ اپنے فن میں مخلص ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں سعودیوں اور غیر ملکیوں کی طرف سے مٹی اور کھجور کے پتوں سے تیار کردہ فن پاروں پر بہت زیادہ پذیرائی ملی۔

مقبول خبریں اہم خبریں