اسرائیل کا شام میں حکومت کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے شام میں حکومت کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں لیکن فوری طور پر ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ایک عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کی شام 6 بج کر45 منٹ پر اسرائیلی دشمن نے لبنان کے شمال سے فضائی جارحیت کا آغاز کیا تھا اور اس نے وسطی خطے میں واقع کچھ مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

سانا کے مطابق اس کے فوری بعد شام کے فضائی دفاع کو فعال کیا گیا اور اس نے صوبہ حماہ پر متعدد میزائلوں کوہدف پر گرنے سے قبل روک لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ حکومت کے زیرانتظام صوبہ حماہ کے مغرب میں واقع شہرمسیاف اور اس کے نواحی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اور لبنان کی حزب اللہ تحریک دونوں کے عناصر کی اس علاقے میں موجودگی ہے۔

اس نے مزید کہا ہے کہ شام میں اسرائیل کا رواں سال یہ آٹھواں بڑا حملہ تھا اوراس میں میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری کے لیے ہتھیاروں کے ڈپواورتحقیقی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

مارچ کے اوائل میں دمشق کے قریب اسرائیلی حملوں میں ایران کی پاسداران انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔پاسداران انقلاب نے ان ہلاکتوں کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد عراق کے خود مختارعلاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں اسرائیل کے ایک مبیّنہ ’’تزویراتی مرکز‘‘ پرحملے کیے تھے۔

2011ء میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں بشارالاسد کی حکومت کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادی ایران کی حمایت یافتہ افواج اور لبنان کے شیعہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اگرچہ اسرائیل شام میں وقفے وقفے سے ان فضائی حملوں پر شاذ و نادر ہی کوئی تبصرہ کرتا ہے لیکن اس نے 2011 سے اب تک سیکڑوں کی تعداد میں حملوں کا اعتراف کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں