گڑیاں بنانے کی شوقین سعودی لڑکی نے شوق کو تخلیقی آرٹ میں بدل دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بچیوں کو گڑیاں بنانے یا انہیں اپنے پاس رکھنے کا بے حد شوق ہوتا ہے مگر سعودی عرب میں گڑیاں پسند کرنے والی ایک لڑکی نے اس شوق کو تخلیقی آرٹ میں بدل دیا۔

فاطمہ التاجرکو گڑیاں بنانے کا شوق تھا مگر اس نے اس شوق کو ایک تخلیقی آرٹ میں بدل دیا۔ اس نے تخلیقی آرٹ کی مدد سے اپنے ہاتھوں سے بڑی تعداد میں گڑیان بنا دی ہیں۔ مختلف اشکال کی گڑیاؤں سے فاطمہ کی اس آرٹ کی مہارت کا پتا چلتا ہے۔

فاطمہ اب 26 سال کی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری والدہ نے مجھے کروشیہ کی بنیادی باتوں کی تربیتی حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ اس وقت میری عمر 22 سال کی تھی۔ میں نے اس دور میں اس قسم کے فن پاروں کی تفصیلات اور اس کے تمام پہلوؤں کو سیکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس فن کو سیکھنے کے بعد میں نےاس کے تخلیقی پہلوؤں کے بارے میں جاننے کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو براؤز کرنا شروع کیا جہاں مجھے بہت زیادہ آرٹ ورک ملا جس میں بیڈ اسپریڈز بیگز، کروشیہ پر مبنی متاثر کن مصنوعات شامل ہیں۔ اس تلاش کے دوران میں ایک جاپانی آرٹ تک پہنچ گئی۔ اس آرٹ کو مقامی زبان میں "امیگورومی" کہا جاتا ہے۔

"امیگورومی" کیا ہے؟

"امیگورومی" کا مطلب ہے گڑیا کو سلائی، بُننے اور بھرنے کا فن جس میں اعداد و شمار اور چھوٹے سائز کے بشری جانوروں کی شکل میں گڑیا بھرنا ہے۔ فاطمہ تاجر کے بہ قول یہ لفظ "ممی" کے مرکب سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے گرہ لگانا یا بُننا، اور لفظ "گرومی"، جس کا مطلب ہے بھری ہوئی گڑیا۔

فاطمہ نے بتایا کہ میں نے یہ آرٹ خود اپنی مدد آپ سیکھا۔ اس لیے میں اس میدان میں ’سیلف میڈ‘ ہوں۔ اس آرٹ ورک میں مُجھے والد اور والدہ کی طرف سے بہت حوصلہ ملا۔ میں نے اس فن میں مہارت پیدا کرنے کے لیے دو سال تک کام کیا یہاں تک کہ میں اس میں ماہر ہوگئی۔ اس کے بعد میں نے اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ گڑیاؤں کا اسٹور کھولا۔

فاطمہ تاجر نے کہا کہ میں نے 5 سال تک اس شعبے میں مشق کی۔ اس دوران میں نے سینکڑوں گڑیاں بنائی اور فروخت کیں۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ میں چینی، غیرملکی ترکی اور روسی پیٹرن سیکھے۔ میں اس آرٹ میں سعودی عرب کی عالمی سطح پرنمائندگی کی خواہاں ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں