دمشق کی فضاؤں میں ہزاروں کبوتر جنگ کے گزرے برسوں کی کہانی بیان کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے دارالحکومت دمشق کے "پرانے" علاقے کے مختلف محلوں میں اس وقت ایک غیر مانوس منظر دیکھنے میں آیا جب ان جگہاؤں پر پکی ہوئی مٹی سے تیار کیے گئے 15 ہزار بناوٹی کبوتر موجود نظر آئے۔

ان کبوتروں کو ایک نمائش کے سلسلے میں پیش کیا گیا ہے۔ رواں ماہ 3 اپریل سے 15 اپریل تک جاری رہنے والی یہ نمائش شام میں کئی برس تک جاری جنگ کی کہانی بیان کر رہی ہے۔

نمائش میں فنون لطیفہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے 16 طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔ یہ نمائش ان طلبہ کی 48 سالہ خاتون استاد پروفیسر بثینہ العلی کا خواب تھا۔ انہوں نے اس نمائش کی منصوبہ بندی 11 برس قبل کی تھی۔ تاہم ملک میں عوامی احتجاج شروع ہونے کے باعث نمائش منعقد نہ ہو سکی اور اس میں استعمال ہونے والا سامان اور مواد گوداموں میں پڑا رہا۔

نمائش
نمائش

بثینہ کہتی ہیں کہ ان کا خواب تھا کہ شہر کے وسطی علاقے کو سجاؤں اور وہاں گنجان آباد جگہ پر ان کبوتروں کو معلق کروں تا کہ لوگ انہیں دیکھیں مگر جنگ نے سب کچھ بدل ڈالا اور میں اپنے اس خواب کو پورا کرنے کا کام ملتوی کرنے پر مجبور ہو گئی۔

اس جنگ میں بثینہ نے اپنے خاندان کے دو افراد بھی کھو دیے۔

اب بثینہ کے طلبہ نے "قدیم دمشق" کے علاقے میں ان کبوتروں کو دو روایتی انداز کے گھروں کے صحنوں میں لٹکایا۔

ان بناوٹی کبوتروں کے ساتھ بہت سے بچوں کے پیغامات بھی منسلک کیے گئے ہیں جن میں ان بچوں نے اپنے خوابوں اور امنگوں کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں