سعودی محقق کو آرامی دور سے متعلق آثار قدیمہ کی تختی مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی محقق مرضی جلباخ نے مملکت کے شمال میں تیماء کے مقام پر آثار قدیمہ کے حوالے سے ایک قیمتی تختی کا انکشاف کیا۔ مرضی کو ملنے والی پتھروں کی اس تختی پر آرامی دور کے نقوش موجود ہیں اور یہ تقریبا چھٹی صدی قبل مسیح کے زمانے کی ہے۔

چند روز قبل مرضی اپنی سواری میں قدیم گھروں کے ملبوں کے بیچ اپنے تحقیقی سفر میں تھا کہ اس دوران اسے یہ تختی ملی جو "مسلة تیماء" (تیماء کا لمبوترا کندہ شدہ پتھر) کے متوازی تھی۔ اسی طرح محقق چارلز ہوبر کا دریافت کیا گیا آرامی پتھر ،،، اس وقت یہ دونوں اشیاء پیرس کے لوور میوزیم میں نمائش کے لیے موجود ہیں۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں قومی عجائب خانہ اب اس نئی دریافت کو پیش کرے گا۔

سعودی محقق مرضی جلباخ
سعودی محقق مرضی جلباخ

سعودی محقق مرضی جلباخ گذشتہ 40 برسوں سے مملکت کے اندر ثقافت سے متعلق بلند پایہ آثار قدیمہ کی کھوج لگا رہا ہے۔ العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے مرضی نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی اس کام سے محبت رکھتا ہے۔ اس نے ہوش سنبھالا تو عرب شاعر السموأل الأزدی کا محل اپنے گھر سے چند میٹر کے فاصلے پر پایا۔ مرضی کے مطابق اسے زندگی میں آثار قدیمہ سے متعلق پہلی چیز 1404 ہجری میں ملی جب اس کے اسکول میں طلبہ کو اس نوعیت کی کوئی چیز لانے کے لیے کہا گیا۔

مرضی کے مطابق اب تک اس کے سامنے آنے والی دریافتوں کا بڑا حصہ چٹانوں پر نقوش اور تصاویر کا ہے۔ ان میں ثمودی ، نبطی ، دادانی اور آرامی ادوار کی تحریریں شامل ہیں۔

سعودی محقق مرضی چار دہائیوں سے سعودی ثقافتی اداروں کے ساتھ تعاون میں شریک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں