امریکا ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سےنہیں نکالے گا:اسرائیلی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے حکام نے اپنے یورپی ہم منصبوں کو بتایا کہ واشنگٹن نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایٹمی مذاکرات کے طور پر دہشت گردی تنظیموں کی فہرست سے ایرانی پاسداران انقلاب نکالنے کا ارادہ نہیں کیا.

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اب بھی دہشت گردی تنظیموں کی فہرست سے پاسداران انقلاب کو نکالنے پر غور کررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایران اور اہم طاقتوں کے درمیان جوہری بات چیت، دہشت گردی تنظیموں کی فہرست سے پاسداران انقلاب کو نکالنے پر ہو رہی ہے۔

پابندیوں کا خاتمہ

واشنگٹن فری بیکن کا کہنا ہے کہ حال ہی میں امریکی کانگریس کے مطابق بائیڈن کی انتظامیہ نے پاسداران انقلاب کے خلاف پابندیوں کے خاتمے اور اسے دہشت گردی کی فہرست کے بجائے فیلق القدس کوبلیک لسٹ میں برقرار رکھنے پر توجہ دی ہے۔

یہ تجویز کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سےنکالا جائے، اس کے بدلے میں فیلق القدس جو بیرون ملک سے لڑنے والی ایک چھوٹی سی یونٹ کو بلیک لسٹ میں رکھنے کی تجویز پرغور کیا گیا۔

اندازوں کے مطابق پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی تعداد 80،000 سے ایک لاکھ 80 ہزار ہے جب کہ اس میں فیلق القدس میں ایرانی جنگجووٗں کی تعدا صرف بیس ہزار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں