مسجد حرام میں "ویمن امپاورمنٹ ایجنسی" خواتین کارکنان کے کردار کی ترقی کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسجد حرام میں خواتین کا با اختیار بنانے کی ایجنسی کا شمار اُن اہم ایجنسیوں میں ہوتا ہے جو حرم مکی میں خواتین کے امور کا خیال رکھتی ہیں۔

حرمین شریفین کے امور کے نگران اعلی کی سکریٹری برائے با اختیار خواتین محترمہ مرام بنت عبدالکریم المعطانی کے مطابق ایجنسی خواتین کو پیشہ ورانہ سپورٹ فراہم کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ خواتین اہل کاروں کو ان کے شعبے کے مطابق تربیت فراہم کی جا سکے۔ ان اہل کاروں کو جدید ٹکنالوجی اور آلات کا استعمال سکھایا جاتا ہے۔ خواتین کو اُن شعبوں میں بھی خصوصی مہارت سے آراستہ کیا جاتا ہے جن میں جنرل پریذیڈنسی کو افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ان میں کمپیوٹر انجینئرنگ ، سافٹ ویئر انجینئرنگ ، انفارمیشن مینجمنٹ ، سائبر سیکورٹی ، پروگرامنگ ، قانون اور زبانیں شامل ہیں۔ قائدانہ مناصب پیش کر کے خواتین کو با اختیار بنایا جاتا ہے۔

المعطانی کے مطابق حرمین شریفین کی جنرل پریذیڈنسی کے ذمے داریاں انجام دینے والی تمام خواتین کی مکمل معلومات محفوظ رکھی جاتی ہے۔ اس کی بنیاد پر ان خواتین کے قائدانہ کردار اور کارکردگی کو جانچا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے صرف دس برس پہلے پر نظر کی جائے تو حرمین شریفین کے انتطامی امور میں خواتین کا کردار نگرانی کی حد تک محدود ملتا ہے۔ بعد ازاں 1442 ہجری میں خواتین کو با اختیار بنانے کی انتظامیہ وجود میں آئی جس کا مقصد حرمین شریفین میں خواتین کی صلاحیتوں کا استعمال اور ان کے مقام کو مضبوط بنانا ہے۔

المعطانی نے بتایا کہ حرم شریف میں ذمے داریوں کی انجام دہی کے لیے سعودی رضاکار خواتین بھی سرگرم ہیں۔ یہ خواتین مصلوں کی صفائی اور سینی ٹائزیشن ، صفوں کو منظم کرنے کے علاوہ زمزم کے کولروں اور خواتین میں زمزم کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کرتی ہیں۔

اسی طرح گزر گاہوں اور اور بیرونی صحنوں میں نماز کی جگہاوں پر خواتین کے ہجوم کو منظم کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں مختلف زبانوں میں خواتین کو آگاہی اور رہ نمائی فراہم کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں