نصف صدی سے "سوبیا" المنابری خاندان کی طرف سے نسل در نسل منتقل ہونے والا مشروب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے شہر جدہ کی الشرقی کالونی آپ کو سوبیا اسٹور ملے گا، جو چار دہائیوں سے زیادہ پرانا ہے۔ یہ المنابری خاندان کی طرف سےنسل در نسل چلنے والا ایک مشروب مرکز ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران عمرو المنابری نے سوبیا کے ساتھ اپنے خاندان کی وابستگی کی کہانی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کام میرے دادا کے والد عقیل المنابری نے100 سال سے زیادہ پہلے میں مکہ المکرمہ میں حرم مکی میں یہ مشروب متعارف کرایا۔ وہ تانبے کے ایک بہت بڑے مشکیزے میں مشروب رکھتے جس میں یہ مشروب دن بھر ٹھنڈا رہتا۔ پھر میرے دادا عمر تشریف لائے، جوشاہ فیصل محل کے باورچیوں میں شامل تھے۔انہوں نے مکہ معظمہ میں مسجد حرام کے قریب ایک ریستوران قائم کیا جس میں وہ ہر طرح کی مٹھائیاں اور مقبول مشروبات پیش کرتے۔

اس طرح، عمرو کے والد فوزی جنہوں نے اپنے ابتدائی بچپن سے ہی پچھلی نسل کا ساتھ دیا۔ اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی۔ انہوں نے اس پیشے کے تمام راز سیکھے اور ان میں مہارت حاصل کی۔ المنابری نےبتایا کہ ان کے والد آرامکو میں کام کرتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے جدہ چلے گئے تھے لیکن انھوں نے مکہ المکرمہ کو نہیں چھوڑا۔ رمضان المبارک اور حج کے مواقع ان کے مشروب کی فروخت کے لیے خاص ہیں۔

المنابری خاندان کا خیال ہے کہ بیچنے والے کی طرف سے پیش کردہ بہترین اشتہار اس مشروب کی تاریخ کی شرافت کو ظاہر کرنا ہے۔ ان کے مشروب کا ذائقہ اور معیار ہی ان کی پہچان ہے۔ رمضان المبارک کے دوران ان کے مشروب کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے اور یہ بوڑھوں اور جوانوں سب کا مرغوب مشروب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں