"مجھے جینے دو" تبوک میں ایک سعودی چپس فروش کی ویڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

"تم پر خدا کا فضل ہے، میں اپنے خاندان کی کفالت کرتا ہوں۔ خدا مجھے حلال [رزق] عطا کرے، میں سعودی ہوں"۔ یہ الفاظ ایک سعودی شہری کے ہیں جوشمالی تبوک میونسپلٹی میں ایک اسٹال پرآلو کے چپس فروخت کررہے ہیں۔

چپس فروش نوجوان یونیورسٹی کا طالب علم ہے مگر اسے ابھی تک کوئی اچھی ملازمت نہیں ملی۔ اس لیے اس نے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے آلو کے چپس فروخت کرنے کا سہارا لیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سرکاری ملازم نوجوان سے بحث کرتے ہوئے کہہ رہاہے کہ وہ یہ کام نہ کرے مگر جواب میں نوجوان طالب علم کا کہنا ہے کہ "میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ایک دکان یا ریسٹورنٹ کرائے پر لے سکوں"۔

عوام کی حمایت

چپس فروخت کرنے والے نوجوان کی ویڈیو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر بڑے پیمانے پرمقبول ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے ساتھ عوامی ہمدردی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

سعودی شہریوں نے علاقائی میونسپلٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بے روزگار سعودی نوجوانوں کے لیے ذریعہ معاش فراہم کریں اور ان کی مدد کریں۔

تبوک انتظامیہ کا ردعمل

درایں اثنا تبوک کی میونسپلٹی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں واضح کیا کہ اس کے ماہرین نےبعض شہریوں کی طرف سے کی گئی شکایات کے بعد اس جگہ کا دورہ کیا کیونکہ اس طرح کے کھانے کی اشیا میں صحت کے معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا اور اس کے نتیجے میں ایسی چیزیں کھانے سے شہریوں کی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

اس نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے ضروری نگرانی کے فرائض انجام دیے اور کمیونٹی کے ممبران کے تحفظ کو یقینی بنانے اور گلی محلوں کے دکانداروں اور موبائل اسٹورز کی اشیا پر نظر رکھنے کے اقدامات کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں