جو بائیڈن جون میں اسرائیل اور رام اللہ کا دورہ کر سکتے ہیں: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن رواں سال جون میں ممکنہ طور پر اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار "ہآرٹز" کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ یہ صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد جو بائیڈن کا مشرق وسطی کا پہلا دورہ ہو گا۔ امریکی صدر اس دورے میں رام اللہ بھی جا سکے ہیں۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق امریکی انتظامیہ کی ایک ٹیم اتوار کے روز اسرائیل پہنچی تا کہ جو بائیڈن کے اس آئندہ دورے کی تیاری کر سکے۔

امریکی وائٹ ہاؤس نے گذشتہ ماہ اپریل میں باور کرایا تھا کہ بائیڈن نے اسرائیل کا دورہ کرنے کے سلسلے میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی دعوت قبول کر لی۔ تاہم دورے کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ بائیڈن کا اسرائیل کا دورہ جرمنی میں 26 سے 28 جون تک ہونے والے گروپ سیون کے اجلاس سے قبل دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ دورہ ہسپانیہ میں 29 اور 30 جون کو مقررہ نیٹو اتحاد کے سربراہ اجلاس کے بعد ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر اس دورے میں فلسطینی ہم منصب محمود عباس سے بھی ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہآرٹز اخبار کے مطابق امریکی ذمے داران نے جمعرات کے روز عباس کے دفتر سے رابطہ کیا تا کہ بائیڈن کے رام اللہ کے دورے کے پروگرام کو حتمی شکل دی جا سکے۔

اخبار نے ایک اعلی فلسطینی ذمے دار کے حوالے سے بتایا کہ "ہم ابھی تک مشرقی بیت المقدس میں امریکی قونصل خانہ کھلنے کی جانب پیش رفت نہیں کر سکے ہیں ، لہذا اب ملاقات میں ہمیں کس چیز کا انتظار ہو سکتا ہے"۔

اخبار کے مطابق بائیڈن اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ اور وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے ساتھ ملاقاتوں میں ایران کا معاملہ زیر بحث لائیں گے۔

اسرائیل اُن نمایاں ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے جو ایرانی "پاسداران انقلاب" کا نام دہشت گردی کی امریکی فہرست سے نکالے جانے کو مسترد کرتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کا نام مذکورہ فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس سے قبل مئی 2018ء میں امریکا یک طرفہ طور پر ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدہ ہو گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں