عراق فوج اور الیبشہ تنظیم کے درمیان لڑائی کے سبب شہریوں کی نقل مکانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شمالی صوبے نینوی کے علاقے سنجار میں عراقی فوج اور الیبشہ (سنجار پروٹیکشن) فورس کے درمیان گھمسان کی لڑائی کے سبب درجنوں خاندان نقل مکانی کر گئے۔

مقامی مبصرین کے مطابق الیبشہ فورس کے عناصر رہائشی علاقوں میں مورچہ بند ہیں۔ اس کے نتیجے میں گھروں کے درمیان معرکہ آرائی جاری ہے۔ عراق میں انسانی حقوق کی رصد گاہ نے بتایا کہ لڑائی میں شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ لڑائی میں فریقین کی جانب سے درمیانے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

پیر کے روز سنجار کے علاقے میں عراقی فوج اور ایزدی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ایزدی جنگجو کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ مربوط ہیں۔

عراق میں سنجار کا علاقہ ایزدی اقلیت کا گڑھ ہے۔ یہاں وقتا فوقتا عراقی فوج اور "سنجار پروٹیکشن یونٹس" کے درمیان مختلف معرکہ آرائی ہوتی رہتی ہے۔ حالیہ جھڑپوں کا آغاز اتوار کی شب ہوا تھا اور یہ سلسلہ پیر تک جاری رہا۔ فریقین نے ایک دوسرے پر ان جھڑپوں کو چھیڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔

عراقی سیکورٹی میڈیا سیل کے مطابق الیبشہ تنظیم کے عناصر نے متعدد راستے بند کر دیے اور سنجار میں شہریوں کی نقل و حرکت کو روک دیا۔ بعد ازاں عراقی فورس نے راستوں کو کھول دیا۔ اس دوران میں اسے الیبشہ کے نشانچیوں کے ہاتھوں فائرنگ کا نشانہ بننا پڑا۔ یہ نشانچی عمارتوں کے اوپر تعینات تھے۔

نینوی صوبے سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ شیروان الدوبردانی کے مطابق لڑائی کا سلسلہ پیر کی دوپہر تک جاری رہا۔ لڑائی میں ایک عراقی فوجی ہلاک ہو گیا۔ ایزدی جنگجوؤں نے عراقی فورس کو حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ ادھر ایک اعلی عسکری ذمے دار نے بتایا کہ عراقی فوج کا ایک اہل کار شہید اور دو زخمی وہ گئے جب کہ اس کے مقابل سنجار پروٹیکشن یونٹس کے 13 ارکان مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں