سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات تنزلی کا شکار ہیں: شہزادہ ترکی الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ اور امریکا اور برطانیہ میں سابق سعودی سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ سعودی عوام ایک ایسے وقت میں مایوسی محسوس کر رہے ہیں جب ان کا ماننا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کو مل کر خلیجی خطے کے استحکام اور سلامتی کو درپیش خطرات کا سامنا کرنا چاہیے۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے سعودیہ عرب کو درپیش حالایہ خطرات کی نشاندہی کی۔ خاص طور پر ایران کے یمن میں اثر ورسوخ اور حوثیوں کا آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جانا، جس کا مقصد نہ صرف سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنا بلکہ بحیرہ احمر، خلیج اور بحیرہ عرب کے ساتھ ‘عالمی سمندری راستوں کی سلامتی اور استحکام پر بھی اثرانداز ہونا ہے۔‘

شہزادہ ترکی نے عرب نیوز کے پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘ کی نئی میزبان کیٹی جنسن کو بتایا: ’اس حقیقت کہ صدر بائیڈن نے حوثیوں کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا، نے حوثیوں کا حوصلہ بڑھایا اور ان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کو مزید جارحانہ بنا دیا ہے۔‘

وہ 12 فروری 2021 کو امریکا کی نئی ڈیموکریٹک انتظامیہ کی جانب سے ایران کے اتحادی مسلح جتھے کی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر حیثیت کی تنسیخ کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

’فرینکلی سپیکنگ‘میں پورے مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں خبر بننے والی بڑی شہ سرخیوں کی رو سے پالیسی سازوں اور کاروباری شخصیات کے انٹرویوزکیے جاتے ہیں۔ شہزادہ ترکی نے اس ویڈیو شو میں امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ، مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاست کی مسلسل تبدیل ہوتی شکل کے بارے میں اس وقت اپنے خیالات کا اظہار کیا جب تیل کی قیمتوں اور سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس بات کو دہراتے ہوئے کہ وہ تمام سعودیوں کی بات نہیں کر سکتے شہزادہ ترکی نے کہا: ’ہم سکول کے بچے نہیں ہیں کہ ہمیں سزا اور انعام دیا جائے۔ ہم خود مختار ملک ہیں اور جب ہمارے ساتھ منصفانہ اور شفاف سلوک کیا جاتا ہے تو ہم اس کا اسی انداز میں جواب دیتے ہیں۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاست دان جہاں کہیں بھی ہوں ان کی جانب سے ایسے بیانات دیے جاتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات اس اصول کے گرد نہیں گھومیں گے یا اس پر استوار ہوں گے۔‘

اس سوال پر کہ آیا متعدد سعودی یہ محسوس کرتے ہیں انہیں قریب ترین اتحادیوں میں ایک نے دھوکہ دیا، شہزادہ ترکی کا کہنا تھا کہ’ہم نے امریکہ کے اپنے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ سٹریٹیجک سمجھا ہے۔‘

ان کے مطابق: ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں اور شائد اس وقت یہ ان نشیبوں میں سے ایک ہے۔ خاص طور پر اس وقت سے جب امریکہ کے صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا کہ وہ سعودی عرب کو تنہا چھوڑ دیں گے۔ اور بلاشبہ جو بات انہوں نے کی انہوں نے اسے عملی شکل دینا شروع کر دیا۔

’سب سے بڑھ کر ان مشترکہ کارروائیوں کو روک دینا جو امریکا اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں یمنی عوام کے خلاف حوثیوں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کرتا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ اسی طرح کے دوسرے اقدامات میں (سعودی ولی عہد کے ساتھ) ملاقات نہ کرنا اور اعلانیہ یہ کہنا شامل ہے کہ وہ ولی عہد سے نہیں ملیں گے۔ اور ایک مرحلے پر سعودی عرب سے طیارہ شکن میزائلز کی بیٹریاں ہٹانا شامل ہے، جب ہم حوثیوں کی جانب سے میزائلز اور ڈورنز جیسے ایرانی آلات کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا کر رہے تھے۔

بہ ظاہر واشنگٹن فون کالز اور حکام کے دوروں کی شکل میں ریاض سے رابطے قائم رکھنا چاہتا ہے لیکن شہزادہ ترکی کے مطابق’یہ محض ایک معاملہ نہیں ہے۔‘

ان کے بقول: ’یہ فضا میں مجموعی طور پر موجود ہے اور مثال کے طور پر امریکا اعلان کر رہا ہے یا امریکی حکام اعلان کر رہے ہیں کہ وہ سعودی عرب کی حمایت کرتے ہیں اورغیر ملکی جارحیت کے خلاف اسے اپنے دفاع میں مدد فراہم کریں گے اور کچھ ایسا ہی۔ ہم ان بیانات کے مشکور ہیں لیکن دونوں قیادتوں کے درمیان تعلقات کے معاملے میں ہمیں مزید دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں