عراق میں ریت کاطوفان؛ایک ہزار سے زیادہ افراد سانس کی بیماریوں کے سبب اسپتال داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں جمعرات کو ریت کے طوفان کی وجہ سے ایک ہزار سے زیادہ افراد کو سانس لینے میں دشواری یا سانس کی بیماریوں کی وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔یہ گذشتہ ایک ماہ میں ملک میں آنے والا ساتواں طوفان ہے۔

عراق کے سرکاری میڈیا کے مطابق بغداد اور صوبہ الانبار کے وسیع مغربی علاقے سمیت عراق کے اٹھارہ صوبوں میں سے چھے کے باشندے ایک بار پھرآج جب بیدار ہوئے تو آسمان پر دھول کے گھنے بادل چھائے ہوئے تھے۔

عراق کی سرکاری خبررساں ایجنسی آئی این اے نے بتایا کہ دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع صوبوں الانبار اور کرکوک کے حکام نے لوگوں پرزوردیا ہے کہ وہ گھروں ہی میں رہیں۔

محکمہ صحت کے ایک عہدہ دار انس قیس نے بتایا کہ صوبہ الانبار کے اسپتالوں میں سانس لینے میں دشواری کے سبب 700 سے زیادہ مریض لائے گئے ہیں۔

وسطی صوبہ صلاح الدین میں نظام تنفس سے دوچار 300 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔وسطی صوبہ دیوانیہ اور دارالحکومت بغداد کے جنوب میں واقع صوبہ نجف میں سے ہر ایک میں قریباً 100 کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

عراق حالیہ برسوں میں خاص طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔گذشتہ چند سال میں اس ملک میں پہلے ہی کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور زیادہ درجہ حرارت کا تجربہ ہورہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عوامل سے جنگ زدہ ملک میں سماجی اور معاشی تباہی آنے کا خطرہ ہے۔

نومبرمیں عالمی بینک نے خبردار کیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عراق کو 2050ء تک آبی وسائل میں 20 فی صد کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اپریل کے اوائل میں ایک سرکاری عہدہ دار نے خبردارکیا تھا کہ عراق کو آنے والی دہائیوں میں سال میں ’’272 دن تک دھول‘‘(ریت کے طوفان) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عراق کی وزارت ماحولیات کا کہنا ہے کہ بدلتے موسم کے رجحان کو’’نباتات کے رقبے میں اضافے اور جنگلات کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے کیونکہ جنگلات ہوا کا رُخ موڑنے اور موسم خوش گوار بنانے مددگار ثابت ہوتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں