سعودی عرب میں ’کان کنی‘ کے شعبے کا حجم 70 ارب ریال سے تجاوز کرگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں صنعت اور معدنی وسائل کے وزیر بندر الخریف نے کہا ہے کہ مملکت کا مقصد کان کنی کے شعبے کو ترقی دینا ہے۔ حکومت نے سال 2020 میں کان کنی کے سرمایہ کاری کے نظام کے آغاز کے بعد سے اس سمت میں اہم اقدامات کیے ہیں اور ہم نے اس سیکٹر میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی محسوس کی ہے۔

جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاؤن میں پیر کو شروع ہونے والی افریقی کان کنی کانفرنس "اندابا" کی سرگرمیوں کے دوران مزید وزیر صنعت نے ’العربیہ‘ سے انٹرویو میں کہا کہ کان کنی کا نظام سرمایہ کاری کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ صنعتیں اور کان کنی کو صنعت سے جوڑ کر مملکت میں ایک اچھی مارکیٹ بناتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ زنک اور تانبے سے بھرے الخنیقیہ علاقے کی آخری نیلامی میں غیر ملکی کمپنیوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، جو سرمایہ کاری کو تحریک دینے میں مملکت کی کامیابی کی نشاندہی کرتا ہے۔

وزیر صنعت نے عندیہ دیا کہ مملکت 2021 میں 30 ارب ریال سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو راغب کرے گی، جس میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان کچھ ملے جلے منصوبے بھی شامل ہیں۔

الخریف نے کہا کہ افریقن مائننگ کانفرنس میں شرکت کا مقصد سعودی عرب میں کان کنی کے مواقع اور معدنیات کی نکالنے اور تلاش کرنے کے حوالے سے سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں