وڈیو : سعودی خاتون نے سفید جھنڈا کیوں بلند کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ایک ماں نے اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کر کے دیت لینے سے بھی انکار کر دیا۔ اس کے بعد گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران میں سوشل میڈٰیا پر گردش میں آنے والے ایک وڈیو کلپ نے سعودیوں بالخصوص نجران کے باسیوں کی توجہ حاصل کر لی۔

تفصیلات کے مطابق قاتل کا نام محمد صلاح ابو خشم ہے۔ اس کی والدہ نے مقتول کے اہل خانہ کے لیے سفیف جھنڈا لہرا دیا۔ مقتول کے اہل خانہ نے اس خاتون کے بیٹے کو غیر مشروط طور پر قصاص سے معافی دے دی۔ یہ معاملہ بنا کسی حل کے 18 برس تک چلتا رہا۔

اس سلسلے میں ریکارڈ کیے گئے وڈیو کلپ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے۔ وڈیوز میں بڑی قبائلی شخصیات کو مقتول کے اہل خانہ اور اس کے قبیلوں کی چیدہ شخصیات کے ساتھ اکٹھا دیکھا گیا۔ فریقین کے بیچ مکالمہ ہوا جس کے بعد قاتل کے لیے معافی کا اعلان کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ 18 برس قبل ہونے والے اس جرم کے سلسلے میں مقتول کے گھر والوں کو معافی کے مقابل کروڑوں ریال دیت اور خالی چیکوں کی پیش کش کی جاتی رہی۔

تاہم مقتول کے اہل خانہ نے بنا کسی معاوضے کے اپنے بیٹے کے خون بہا سے دست برداری اختیار کر لی۔ اس حوالے سے دونوں قبائل کے لیے سفید جھنڈے لہرائے گئے۔ اس دوران میں عمومی مجمع میں مسرت کی بڑی لہر دوڑ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں