.
جوہری ایران

جوہری معاہدے کو بچانے کی کوششیں، بائیڈن انتظامیہ کا پاسداران انقلاب کے بارے سخت موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ اُنہوں نے یورپی ایلچی اینریک مورا کو ایرانیوں کے لیے کوئی نئی امریکی تجویز پیش نہیں کی ہے اور امریکا اب بھی ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب [آئی آر جی سی] کو دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے نکالنے سے انکار کرتا ہے جب تک کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے باہر کے معاملات پر رعایت دینے پر راضی نہ ہو۔ ان سرگرمیوں میں خطے میں ایرانی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق ایک سینیرامریکی اہلکار نے انکشاف کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کو امید ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب سے متعلق اپنے مطالبات کو ترک کرنے اور ویانا میں طے پانے والے معاہدے کے مسودے پر دستخط کرنے پر راضی ہو جائیں گے۔

جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش

امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات میں یورپی یونین کے ثالث اینریک مورا نے بدھ کے روز تہران میں ایران کے چیف مذاکرات کار علی باقری سے ملاقات کی تاکہ جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش کی جا سکے۔

آٹھ ہفتے قبل ویانا جوہری مذاکرات میں "تعطل" کے اعلان کے بعد سے مورا کا تہران کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ مورا پاسداران انقلاب کور کو امریکی دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے نکالنے کے ایران کے مطالبے پر تنازعہ کو حل کرنے کی آخری کوشش کر رہا ہے تاکہ فریقین جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کی طرف آگے بڑھ سکیں۔

بائیڈن انتظامیہ اس کے یورپی اتحادیوں اور اسرائیل نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ایران تعطل کے شکار مذاکرات کے درمیان اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھاتا رہے گا۔ مورا نے فرانس، برطانیہ اور جرمنی کےسفر کے دوران بھی ان ممالک اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

مورا اور باقری کے درمیان ملاقات سے قبل ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے ملک میں "افراتفری اور سماجی بدامنی کو منظم کرنے اور معاشرے کو غیر مستحکم کرنے" کے الزام میں دو یورپی شہریوں کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، آنے والے دنوں میں تہران کا دورہ کریں گے، اور صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کریں گے تاکہ موجودہ تعطل پر قابو پانے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں