اسامہ المسلم کا اپنے ناول "بساتین عربستان" پر فلم سیریز بنائے جانے پر تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"ہم پڑھنے والے لوگ نہیں‘‘کے فقرے کو رد کرنے اور اس کی جگہ "ہم لکھنے والے لوگ نہیں‘‘ پیش کرنے والے ناول نگار "اسامہ المسلم" نئی نسل کو مطالعے کی طرف راغب کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

سعودی عرب کے ناول نگار اسامہ مسلم نے’بساتین عربستان‘ نامی ایک ناول لکھا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس ناول پر باقاعدہ ایک فلم سیریز بن گئی۔انہوں نے ٹیکنالوجی کے طوفان میں لوگوں کو مطالعے اور تصنیف وتالیف کی طرف کامیابی سے راغب کیا اور یہ ثابت کیا کہ نوجوانوں میں کتاب کے مطالعے کا شوق اب بھی موجود ہے۔

اخباری رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ناول "بساتین عربستان" کی کہانی سے سعودی سیریز میں بنائی جا رہی ہے۔ اس کی شوٹنگ نیوم شہر میں ہوگی اور توقع ہے کہ اسے 2023ء میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ناول نگار اسامہ المسلم نے کہا کہ یہ سیریز 6 حصوں پر مشتمل ایک خیالی کہانی ہے جو 2015 میں شروع ہوئی تھی۔ اس کے قارئین اسے تقریباً 8 سال سے تجربہ کر چکے ہیں۔ اس ناول کو عرب دنیا، خلیج اور سعودی عرب میں لاکھوں افراد نے پڑھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بہت سے لوگ اس ناول کی تفصیلات جانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے ٹیلی ویژن یا فلمی کام میں تبدیل کیا جائے۔

المسلم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میرے ناول پر فلم بن رہی ہے مگر میں ذاتی طور پر ایسا نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا میری سب سے زیادہ توجہ تحریر کے معیار پر ہے۔ جب میں نے ناول کا انگریزی سے ترجمہ کیا تو اس کے بعد مجھے کئی مشہور کمپنیوں کی طرف سے معاہدوں پر دستخط کرنے کی پیشکشیں موصول ہوئیں، لیکن کرونا حالات تبدیل کردیے تھے۔ اس دوران انہیں ’ایم بی سی‘ نیٹ ورک کی طرف سے پیشکش موصول ہوئی کہ اس ناول پر فلم بنائی جائے۔ میں اس لیے تیار ہوگیا کہ یہ کام سعودی عرب کے اندر ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں