’سعودی خاندان سالم جس کی نسلوں نے کھیتی باڑی کواپنا اوڑھنا بچھونا بنایا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے زرخیز علاقے الاحسا میں کئی ایسے خاندان ہیں جو روایتی کاشت کاری کے پیشے کو نسل در نسل منتقل کررہے ہیں۔

انہی کسان خاندانوں میں ایک سالم خاندان بھی شامل ہے۔ یہ خاندان 150 سال سے زائد عرصے سے الاحسا میں چاول کاشت کررہا ہے۔ السلام خاندان کے پاس الاحساء چاول پیدا کرنے والے ایک فارم ہے۔ سالم خاندان کے نوجوان زکی سالم نے بتایا کہ انہیں یہ پیشہ ان کے آباؤ اجداد سے ملا ہے۔ ان کے پڑ دادا اور داد چاول سمیت کئی دوسری فصلیں کاشت کرتے تھے۔ اب یہ کام زکی اور اس کی نسل آگے بڑھا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے زکی سالم نے انکشاف کیا کہ فارم میں سبزیاں، گھاس اور پھلیاں جیسے بھنڈی، میٹھا، تل، تربوز، رنگین جو اور رنگین مکئی کی کاشت کی جاتی ہے۔ الاحساء میں چاول کو ایک ناگزیر خوراک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کا چاول اپنے غذائی اجزاء کی وجہ سے طبی طور پر غیرمعمولی طور پر مفید خیال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ خریداری کے آرڈر مملکت کے تمام خطوں اور بیرون ملک سے آتے ہیں۔ 2017 تک سالم کا فارم الاحساء کے چاول کا سب سے بڑا پیدا واری مرکز بن گیا تھا۔ زکی سالم نے چاول کو دوسری مصنوعات میں تبدیل کرکے کاشت کاری کے پیشے کو ایک نئی شکل دی۔ اس نے چاول کو آٹے میں تبدیل کیا جس سے روٹی، کیک اور دیگر اشیا بنائی جاسکتی ہیں۔

سالم کی پرورش اس کے والد نے کی۔ ان کے والد کو کھیتی باڑی کا شوق تھا لیکن جب سعودی نوجوان اپنے فارم کی دیواروں کے باہر اپنی نئی نوکری کے لیے نکلا تو اسے لگا کہ اس کی روح نے اپنی پسندیدہ جگہ نہیں چھوڑی۔ اس نے نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ 2016 میں الاحسا واپس آیا ہمیشہ کے لیے اپنے فارم کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔

اب اس کا فارم ایک پرکشش سیاحتی علاقے میں بدل گیا۔ اس نے اپنے دروازے تمام سیاحوں کے لیے کھول دیے۔ سعودی کسان نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے فارم میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ اسے مفت کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں