’یتیم بچی کو گود لیا تو گھر خوشیوں اور برکتوں سے بھر گیا‘

یتیم بچی کو گود لینے والی سعودی خاتون کی متاثر کن اور سبق آموز کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں ایک یتیم بچی کو گود لے کراس کی پرورش کرنے والی خاتون کی انسانی ہمدردی کے کافی چرچے ہیں۔ یتیم بچی کو گود لینے والی نورہ داؤد نے کئی سال قبل ایک چار سالہ بچی ’امل‘ کو گود لیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ امل کو گود لینے سے قبل میں بے اولاد تھی۔ اس کے بعد اللہ نے مجھے اولاد کی نعمت سے بھی نوازا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے نورہ نے کہا کہ یتیم بچی کو گود لینے کا مقصد لوگوں کو یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے یتیم بچی کو نہ صرف گود لیا بلکہ اس کی اچھی طرح پرورش کی، اس کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیا اور اس حسن اخلاق سے آراستہ کیا۔

نورہ الداؤد سوشل میڈیا پر نشر کیے گئے ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا گیا جس میں وہ اپنی گود لی بچی "امل" کواپنانے کی کہانی سنا رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اس کا تجربہ اس وقت شروع ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ وہ بچے پیدا نہیں کر سکتی، اس لیے اس نے ایک یتیم لڑکی کو گلے گود لینے کا فیصلہ کیا۔ تب بچی کی عمرچار سال تھی۔

انہوں نے بتایا کہ 14 سال بعد بغیر کسی علاج یا طبی مداخلت کےاللہ نے اسے ایک بیٹی دی، نورہ نے اس کا نام ’سارہ‘ رکھا۔ اس کے بعد ایک اور بیٹی البراء پیدا ہوئیں۔ اس کی تیسری اولاد بچہ ہے جس کا نام سعد رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یتیم بچی کا گھرآنا تھا کہ ہمارا گھر خوشیوں اور برکتوں سے بھر گیا۔

سوشل میڈیا کارکن نورہ کی کہانی سے بہت متاثر ہیں۔ انہوں نے یتیم بچی کو گود لے کراس کی بہترین انداز میں پرورش کرنے پرنورہ کی تعریف کی۔

نورہ داؤد نے بتایا کہ امل ابھی چھوٹی ہی تھی تو میں یتیم بچوں سے رابطے کرنے لگی۔ میں یتیم بچوں کے بارے میں بات کرتی اور ان کے بارے میں سوچ بچار کو اپنی ذمہ داری سمجھ رہی تھی۔

خوبصورت رشتہ

نورہ نے کہا کہ امل کے ساتھ اس کا رشتہ بہت خوبصورت ہے۔ میں نے اسے بہت زیادہ توجہ اور دیکھ بھال فراہم کی۔ اسی توجہ کا نتیجہ ہے کہ وہ اب خود اعتماد ہے۔وہ اسکول پڑھ رہی ہے۔ اسے یتیمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ وہ میرے لیے میری حقیقی بیٹی اور میں اس کے لیے حقیقی ماں ہوں۔

جہاں تک رضاعی خاندانوں کے سب سے اہم غلط طریقوں کا تعلق ہے، الداؤد نے ذکر کیا کہ بچے میں ان کا غرور نہ ہونا اور شرم و حیا کے جذبات سب سے مشکل چیزیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں