سعودی عرب: ریاض میں گھروں کے اندر’خولانی‘ کافی کی کامیاب کاشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے ریاض میں خولانی کافی کو محفوظ گھروں کے ذریعے کاشت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ کافی کے پودے جنوبی علاقوں کے کھیتوں سے لائے گئے اور ان کی کاشت ریاض میں گھروں میں کی گئی۔ کافی کی کاشت کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ تجربہ نمایاں طور پر کامیاب ہوا۔

وزارت زراعت کے انڈر سیکرٹری کے مشیر اور امید افزا فصلوں کی تحقیق اور مطالعہ کے نگران ڈاکٹر علی عبدالجلیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس تجربے کا مقصد کسانوں کے لیے پیداواری بنیاد کو تبدیل کرنا اور فصلوں کو متعارف کرانا تھا۔ کھیتوں میں کارکردگی اور اعلی معاشی منافع حاصل کرنا اور کسانوں کو کافی کی کاشت کے نئے طریقوں سے روشناس کرنا تھا۔ چنانچہ ہم نے کافی کی فصل کے ساتھ شروعات کیں۔ ہم اپنی کافی کی ضروریات کا 95 فیصد سے زیادہ بیرون ملک سے درآمد کرتے تھے، اس لیے ہم نے اسے مقامی سطح پر تیار کرنا شروع کیا اور اچھی اقسام کا انتخاب کیا۔ مملکت کے مختلف علاقوں میں اس کی کاشت شروع کی گئی جو کامیاب رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے محفوظ علاقوں میں کافی کی کاشت شروع کی جو درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم نے زیادہ پیداوارحاصل کرنا شروع کر دی ہے اور کھلے میدان میں پیدا ہونے والی پیداوار کو دوگنا کر دیا ہے۔ اس لیے کاشتکاروں اور سرمایہ کاروں کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر کافی کی کاشت شروع کریں۔

علی عبدالجلیل نے وضاحت کی کہ پیداواربہت اچھی اور تسلی بخش ہے اور کافی کی پھلیاں بڑی ہیں، اور یہ مملکت میں اعلیٰ پیداوار کے لیے امید افزا نتائج ہیں۔

انہوں نےکہا کہ فصل فی درخت 30 کلو سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے جب کہ کھلی زمین پر درخت صرف 18 کافی کی فصل دیتا ہے۔

تازہ پانی اور اچھی زمین فراہم کر کے پیداوارمیں 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر پودوں کو گرین ہاؤسز میں لگانے کے ایک سال بعد ایک خاص سائز میں لیا جائے تو وہ واضح طور پر بڑے ہوتے ہیں اور فصل پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں جبکہ کھلے فارم میں یہ پیداوار شروع کرنے میں دو سے تین سال لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت زراعت پیداوار کا مطالعہ کرنے اور گرین ہاؤسز سے پیدا ہونے والی کافی کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین سے رابطے میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں