سعودی نائب وزیر دفاع کا دورہ امریکا، یوکرین بحران اور یمن میں جنگ بندی پر بات چیت

شہزادہ خالد بن سلمان دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سٹریٹجک پلاننگ کمیٹی سے ملاقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دو امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع خالد بن سلمان وائٹ ہاؤس اور محکمہ دفاع [پینٹاگان] کے اعلیٰ حکام کے ساتھ سیکیورٹی امور پر مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچے ہیں۔

سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے منگل کو قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے ساتھ یمن میں جنگ بندی، یوکرین کے بحران، دو طرفہ مسائل اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

’ایگزیئس ویب سائٹ‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتا یا کہ شہزادہ خالد بن سلمان کی قیادت میں ایک سعودی وفد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوائنٹ اسٹریٹجک پلاننگ کمیٹی سے ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچا۔

یمن میں اقوام متحدہ کی جنگ بندی

قابل ذکر ہے کہ یکم اپریل کو اقوام متحدہ نے یمن کی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان جنگ بندی کے معاہدہ کرایا تھا لیکن ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کررہے ہیں۔

حوثی باغیوں نے تعز گورنری کا محاصرہ ختم نہیں کیا اور وہ صنعا ہوائی اڈے پر فلائٹ آپریشنز میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

یہ خلاف ورزیاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب یمن میں اقوام متحدہ کی جنگ بندی اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اس کے ایک مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہونے اور سیاسی مذاکراتی عمل کی بحالی کا آغاز ہو رہا ہے۔

یوکرائن کا بحران

24 فروری 2022ء کو روس نے یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کیا جس کے بعد مغربی ممالک نے کھل کر یوکرین کی حمایت اور روس کی مخالفت کی ہے۔ مغربی طاقتوں نے یوکرین کو ہتھیاروں اور جنگی سازو سامان کی فراہمی بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔

جب کہ مغرب نےامریکا کی قیادت میں، کریملن پر تکلیف دہ پابندیاں عائد کیں، جس سے مختلف شعبوں، کمپنیوں اور بینکوں کے ساتھ ساتھ روسی سیاست دان اور پوتین کے قریبی امیر لوگ متاثر ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں