عراق کے یزیدی اپنے آبائی علاقے میں ’تنازع،تشدد اورتباہی‘‘کے بعد واپسی سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ناروے کی پناہ گزین کونسل (این آر سی) نے بدھ کے روز ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق کے شمال مغربی قصبے سنجار میں اکثریتی یزیدی (ایزدی)آبادی داعش کی تشدد آمیزتباہ کاریوں کے بعد سست تعمیرِنوکے پیش نظر لوٹنے سے گریزاں ہے۔

داعش نے شمالی عراق میں اپنی سخت گیرمختصرحکمرانی کے دوران میں یزیدیوں کا قتل عام کیا تھا اور ان کی بہت سی خواتین کو باندیاں بنا لیا تھا۔اب اس دہشت گرد گروہ کی شکست کے پانچ سال کے بعد یزیدی (غیرمسلم)، مسلمان کرد اور عرب باشندے آبائی علاقے سنجار اور اس کے نواح میں واپس جانے کو تیار نہیں جبکہ اس ماہ کے اوائل میں ایک مرتبہ پھر تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

ناروے کے امدادی گروپ نے کہا ہے کہ ’’سنجارپہاڑ اور اس کے آس پاس کی قریباً دوتہائی آبادی یعنی ایک لاکھ 93 ہزار میں سے زیادہ تر یزیدی، عرب اور کرد ابھی تک بے گھر ہیں‘‘۔

یزیدی نسلی طورپرکرد ہیں اور کردی زبان بولتے ہیں۔داعش نے 2014 میں سنجار اور اس کے نواحی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور یزیدیوں سے مبیّنہ طور پر ان کے غیرمسلم عقیدے کی وجہ سے سخت نارواسلوک کیا تھا۔

این آرسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سویلین گھروں کی وسیع پیمانے پر تباہی، نئی جھڑپیں اور سماجی کشیدگی آبادی کی بڑی اکثریت کو لوٹنے سے روک رہی ہے۔امدادی گروپ کی جانب سے سروے کیے گئے 1500 افراد میں سے قریباً 64 فی صد نے کہا کہ ان کے گھروں کوبھاری نقصان پہنچاتھامگر سرکاری معاوضے کے لیے درخواست دینے والوں میں سے 99 فی صد کو تباہ شدہ املاک کی بحالی کے لیے کوئی رقم نہیں ملی تھی۔

این آر سی کے کنٹری ڈائریکٹر برائے عراق جیمزمن نے کہا کہ ’’سنجارسے تعلق رکھنے والے سیکڑوں خاندان بے گھر ہیں اور ہزاروں افراد اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ہمیں مسئلہ پائیدارحل کی ضرورت ہے تاکہ عراقی خاندان ایک بار پھر اپنی زندگی گزارنا شروع کرسکیں اور محفوظ مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں‘‘۔

امدادی گروپ نے عراقی حکومت اور خود مختار کردستان کے علاقائی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ شہری خدمات کی بحالی کو ترجیح دیں تاکہ محفوظ رہائش،جائیداد اوراملاک کو یقینی بنایا جاسکے‘‘۔

این آر سی کے مطابق گذشتہ عشرے میں تنازع کے دوران قریباً 80 فی صدبنیادی ڈھانچا اور سنجارمیں 70 فی صد شہری گھر تباہ ہوگئے تھے۔

مئی کے اوائل میں ترکی کی کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستہ یزیدی جنگجوؤں اورعراقی فوجیوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی جس میں ایک عراقی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔

عراقی فوج بغداد حکومت اورخودمختارکردستان کے درمیان سنجار سے یزیدی اور پی کے کے جنگجوؤں کے انخلا کے معاہدے پرعمل درآمد کرانے کی کوشش کررہی تھی۔تازہ لڑائی میں دس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے جس سے علاقے میں بے گھرافراد کی تعداد میں مزیداضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں