’34 سال شاہین پالے مگر یہ ایک بے وفا پرندہ ہے‘

سعودی عرب میں باز فروش شہری کے شاہین کے بارے میں تجربات اور تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے عبداللہ النویبت کا شاہین پرندوں کے ساتھ تعلق تین عشروں سے زاید عرصے پرمحیط ہے مگر عبداللہ کا شاہینوں کے حوال

ے سے تجربہ ان کے لیے مایوس کن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں 34 سال سے شاہین پال رہا ہوں، ان کی خریدو فروخت کرتا ہوں اور ان کے مقابلے کراتا ہوں مگرمیں نے اس عرصے میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شاہین ایک ’بے وفا‘ پرندہ ہے۔

عبداللہ النوبیت کا کہنا ہے کہ اسے شاہین پرندوں کی رکھوالی کا بہت پہلے شوق ہوا اور اس شوق کو پورا کرنے کے لیے میں نے دیگر تمام مشاغل ترک کردیے۔ میں نے ان پرندوں کی خریدو فرخت شروع کردی۔ اس دوران میرے پاس کئی انواع کے شاہین آئے مگر ’بے وفائی‘ ان میں مشترکہ خامی پائی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فالکن ایک ایسا پرندہ ہے جو اپنے مالک کا وفادار نہیں ہے۔ مالک اپنے پرندے سے محبت اور وفاداری کا اظہار کرتا ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب فالکن سیر ہو جاتا ہے یا " پریشان‘‘ ہوتا ہے یا فضا میں تنگ ہوتا ہے تو وہ مالک کو چھوڑ دیتا ہے اور اگروہ بھوکا ہے تو وہ مالک کی طرف لوٹتا ہے۔

سب سے زیادہ قیمتی باز

عبداللہ النوبیت نے کہا کہ باز پروری ان کی زندگی کا ایک اہم معاملہ ہے کیونکہ یہ میرا شوق اور کاروبار ہے۔ پرندوں کی اقسام کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ عام قسم کے ہاکس، پیریگرین فالکن اور اب ایک ہائبرڈ قسم کے شاہین بھی آ گئے ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ قیمتی شاہین بھی ہیں۔ سعودی عرب میں مہنگا ترین شاہین 17 لاکھ 50 ہزار ریال میں فروخت ہوا۔

النوابیت کا کہنا ہے کہ پرندوں کی نگہداشت ایک صبر آزما کام ہے مگر اس سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ شاہین پرندوں کی نگہداشت کے دوران انہیں بیماریوں سے بچانے کے لیے اقدامات بھی لازمی ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرندے کا اپنے مالک کے ساتھ 11 سال سے زیادہ رہنا محال ہے لیکن ایک شاہین جسے "مختار" کہا جاتا ہے کوعزیز مقام حاصل ہے۔ مختار ان کے ساتھ سولہ سال رہا۔ مجھے اس کے ساتھ بہت محبت تھی اور وہ بہت پیارا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں